ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
اِس تحریر میں مولانا سیف الرحمن صاحب کااسمِ گرامی آیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اِن کاتعارف بھی کرادیا جائے۔ تاریخ ِدارُالعلوم میں تحریر ہے : ''اِن کے آباؤ اَجداد قندھار سے آکر پشاور کے مضافات میں آباد ہو گئے تھے وہیں اِبتدائی تعلیم حاصل کی مولانا لطف اللہ علی گڈھی سے علوم ریاضی کی تکمیل کی، حدیث کی تکمیل مولانا رشید اَحمد گنگوہی کی خدمت میں رہ کر کی، مدت تک ٹونک میں تعلیم و تدریس کی خدمت اَنجام دی پھر مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی میں صدر مدرس ہوگئے حضرت شیخ الہند سے وابستہ اَور اُن کی تحریک کے سر گرم رُکن تھے، بڑے عالی ہمت ،ذہین وذکی اَور مجاہد عالم تھے ہندوستان میں اِن کے بہت سے شاگرد تھے۔ حضرت شیخ الہند کے اِرشاد فرمانے پر ہجرت کر کے یا غستان کے آزاد علاقہ میں چلے گئے وہاں کے لوگوں کو وعظ و تبلیغ کے ذریعہ ہندوستان کی آزادی کے لیے تیار کرتے رہے ،مقرر بہت اچھے تھے اِن کے وعظ و تقریر سے یاغستان کے لوگوں میں غیر معمولی جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا ''جنود ِربانیہ'' کی فہرست میں اِن کاعہدہ میجر جنرل کا تھا۔ پہلی جنگ ِ عظیم کے آغاز میں جب ١٩١٤ء میں حاجی ترنگزئی نے اَنگریزوں کے خلاف علم ِ جہاد بلند کیا تو مولانا سیف الرحمن نے اُس میں شریک ہو کر نمایاں کام کیے۔ جنگ کی اِس کوشش میں ناکام ہونے کے بعد اَفغانستان چلے گئے۔ برطانوی حکومت سے اِنہیں جو نفرت تھی اُس کا اَندازہ اِس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ ہٹلر نے جب فرانس پر حملہ کیا اَور یورپ میں باہم جنگ چھڑ گئی تو حملہ کی خبر سنتے ہی جوش میں آکر سجدہ میں گر گئے اَور یوں گویا ہوئے : ''خدایا ! تیرا شکر ہے کہ بھیڑیوں میں باہم جنگ شروع ہو گئی جس سے مظلوم قوموں کے بچ جانے کی اُمید ہو گئی ہے اَور مجھے اَب اَپنے مرنے کا غم نہیں ہے۔''