Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

اكستان

26 - 64
اِس تحریر میں مولانا سیف الرحمن صاحب کااسمِ گرامی آیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اِن کاتعارف بھی کرادیا جائے۔ تاریخ ِدارُالعلوم میں تحریر ہے  : 
''اِن کے آباؤ اَجداد قندھار سے آکر پشاور کے مضافات میں آباد ہو گئے تھے  وہیں اِبتدائی تعلیم حاصل کی مولانا لطف اللہ علی گڈھی سے علوم ریاضی کی تکمیل کی، حدیث کی تکمیل مولانا رشید اَحمد گنگوہی کی خدمت میں رہ کر کی، مدت تک ٹونک میں تعلیم و تدریس کی خدمت اَنجام دی پھر مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی میں صدر مدرس ہوگئے حضرت شیخ الہند سے وابستہ اَور اُن کی تحریک کے سر گرم رُکن تھے، بڑے   عالی ہمت ،ذہین وذکی اَور مجاہد عالم تھے ہندوستان میں اِن کے بہت سے شاگرد تھے۔  
حضرت شیخ الہند کے اِرشاد فرمانے پر ہجرت کر کے یا غستان کے آزاد علاقہ میں چلے گئے وہاں کے لوگوں کو وعظ و تبلیغ کے ذریعہ ہندوستان کی آزادی کے لیے تیار کرتے رہے ،مقرر بہت اچھے تھے اِن کے وعظ و تقریر سے یاغستان کے لوگوں میں غیر معمولی جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا ''جنود ِربانیہ'' کی فہرست میں اِن کاعہدہ  میجر جنرل کا تھا۔ 
پہلی جنگ ِ عظیم کے آغاز میں جب ١٩١٤ء میں حاجی ترنگزئی نے اَنگریزوں کے خلاف علم ِ جہاد بلند کیا تو مولانا سیف الرحمن نے اُس میں شریک ہو کر نمایاں کام کیے۔ جنگ کی اِس کوشش میں ناکام ہونے کے بعد اَفغانستان چلے گئے۔ 
برطانوی حکومت سے اِنہیں جو نفرت تھی اُس کا اَندازہ اِس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ ہٹلر نے جب فرانس پر حملہ کیا اَور یورپ میں باہم جنگ چھڑ گئی تو حملہ کی خبر سنتے ہی جوش میں آکر سجدہ میں گر گئے اَور یوں گویا ہوئے  :  
''خدایا  !  تیرا شکر ہے کہ بھیڑیوں میں باہم جنگ شروع ہو گئی جس سے مظلوم قوموں کے بچ جانے کی اُمید ہو گئی ہے اَور مجھے اَب اَپنے مرنے کا غم نہیں ہے۔'' 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter