ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
''ہندوستان کی جنگ ِ آزادی کی تاریخ میں حاجی ترنگ زئی صوبہ سر حد کی ایک زبردست اَور مشہور شخصیت تھے۔ ضلع پشاور کے ایک گاؤں ترنگ زئی کے رہنے والے تھے، اَصل نام فضل ِواحد تھا مگر نام کے بجائے وطن کی نسبت سے حاجی ترنگ زئی کے نام سے اِن کی شہرت تھی، نہایت متقی پرہیزگار صاحب علم و عمل اَور شیخ طریقت تھے ۔مولانا شاہ نجم الدین معروف بحضرت سوات صاحب کے خلیفہ وجانشین تھے جذبات ِحریت سے سر شار اَور آزادی کے بڑے دِلدادہ تھے۔ پشاور اَور یا غستان کے علاقہ میں اِن کے ہزاروں مرید تھے، غیر معمولی شہرت کے ساتھ عوام میں بے حد مقبول تھے۔ ١٩١٤ء میں حاجی ترنگ زئی حضرت شیخ الہندکے اِیماء سے اَپنے وطن پشاور سے ہجرت کر کے یاغستان چلے گئے تھے برطانوی فوجوں سے اِنہیں کئی مرتبہ لڑنے کی نوبت آئی اَور اَنگریزی فوجوں کو اِن کے مقابلہ میں کئی مرتبہ سخت نقصان اُٹھا کر پسپا ہونا پڑا تھا۔ مشہور ہے کہ اَنگریزوں سے جنگ میں اِن کے مجاہدین کی فائرنگ کا کوئی نشانہ خطا نہ ہوتا تھا۔ حجازکے دورانِ قیام میں حضرت شیخ الہند وہاں سے براہِ اِیران اِن ہی حاجی ترنگزئی کے پاس یاغستان جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ شریف حسین نے جو ترکوں کے خلاف اَنگریزوں کا حلیف بن گیا تھا اِنہیں گرفتار کر کے برطانوی حکام کے حوالے کردیا تھا۔ حاجی ترنگزئی جب تک زندہ رہے برابر اَنگریزوں سے جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ پیغام ِ اَجل نے اِنہیں واصلِ بحق کردیا۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اَپنی رحمتوں سے نوازے۔ عجیب مرد مومن تھا جو دمِ آخر تک اَنگریزوں سے نبرد آزما رہا۔'' (تاریخ دارُالعلوم دیوبند ناشر اِدارہ اہتمام دارُالعلوم دیوبند ص ٦٩۔ ٧٠ ج ٢)