Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

اكستان

25 - 64
''ہندوستان کی جنگ ِ آزادی کی تاریخ میں حاجی ترنگ زئی صوبہ سر حد کی ایک زبردست اَور مشہور شخصیت تھے۔ ضلع پشاور کے ایک گاؤں ترنگ زئی کے رہنے والے تھے، اَصل نام فضل ِواحد تھا مگر نام کے بجائے وطن کی نسبت سے حاجی ترنگ زئی کے نام سے اِن کی شہرت تھی، نہایت متقی پرہیزگار صاحب علم و عمل اَور شیخ طریقت تھے ۔مولانا شاہ نجم الدین معروف بحضرت سوات صاحب کے خلیفہ وجانشین تھے جذبات ِحریت سے سر شار اَور آزادی کے بڑے دِلدادہ تھے۔ پشاور اَور یا غستان کے علاقہ میں اِن کے ہزاروں مرید تھے، غیر معمولی شہرت کے ساتھ عوام میں بے حد مقبول تھے۔ 
١٩١٤ء میں حاجی ترنگ زئی حضرت شیخ الہندکے اِیماء سے اَپنے وطن پشاور سے ہجرت کر کے یاغستان چلے گئے تھے برطانوی فوجوں سے اِنہیں کئی مرتبہ لڑنے کی نوبت آئی اَور اَنگریزی فوجوں کو اِن کے مقابلہ میں کئی مرتبہ سخت نقصان اُٹھا کر پسپا ہونا پڑا تھا۔ مشہور ہے کہ اَنگریزوں سے جنگ میں اِن کے مجاہدین کی فائرنگ کا کوئی نشانہ خطا نہ ہوتا تھا۔ 
حجازکے دورانِ قیام میں حضرت شیخ الہند وہاں سے براہِ اِیران اِن ہی حاجی ترنگزئی کے پاس یاغستان جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ شریف حسین نے جو ترکوں کے خلاف اَنگریزوں کا حلیف بن گیا تھا اِنہیں گرفتار کر کے برطانوی حکام کے حوالے کردیا تھا۔ 
حاجی ترنگزئی جب تک زندہ رہے برابر اَنگریزوں سے جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ پیغام ِ اَجل نے اِنہیں واصلِ بحق کردیا۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اَپنی رحمتوں سے نوازے۔ عجیب مرد مومن تھا جو دمِ آخر تک اَنگریزوں سے نبرد آزما رہا۔''  
(تاریخ دارُالعلوم دیوبند  ناشر اِدارہ اہتمام دارُالعلوم دیوبند  ص ٦٩۔ ٧٠  ج ٢) 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter