Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

اكستان

24 - 64
بار بار حاجی ترنگ زئی صاحب سے اِستدعاء کی گئی کہ وہ اَپنے وطن کو چھوڑ دیں اَور اَنگریزی حدود سے باہر جا کر اِن مقاصد کے لیے کوشش کریں ۔اُن کو مختلف مجبوریاں دَرپیش تھیں اُن کوحل کرنے کے خیال سے وہ تاخیر فرما رہے تھے کہ جنگِ عمومی چھڑ گئی اَورتُرک بھی مجبور کر دیے گئے کہ جنگ کا اِعلان کردیں اُن کے دو جنگی جہاز جو اُنہوں نے اِنگلستان میں بنوائے تھے اَور اُن پر کروڑوں اَشرفیاں خرچ ہوئی تھیں اَنگریزوں نے ضبط کر لیے اَور اِسی قسم کے دُوسرے غیر منصفانہ معاملات اُن سے پیش آئے جو کہ اُن کو جنگ میں گھسیٹنے والے تھے۔
 یہ اُن معاملات کے علاوہ تھے جو کہ طرابلس ،غرب اَور بلقان، کریٹ، یونان وغیرہ میں قریبی زمانہ میں پیش آئے تھے۔ بہرحال ترکی حکومت نے مجبور ہو کر اعلانِ جنگ کردیا تو اِس پر تقریبًا آٹھ یا نو محاذوں سے حملہ کیا گیا۔ اَنگریزوں نے عراق (بصرہ) پر، عدن پر ،سویز پر، چناق قلعہ پر۔ اِسی طرح رُوس نے متعدد تین چار محاذوں پر۔ اِس یورش کی وجہ سے مسلمانوں میں جس قدر بھی بے چینی ہوتی کم تھی چنانچہ اَحوالِ موجودہ سے حضرت شیخ الہند نے حاجی ترنگ زئی صاحب کو مطلع کیا اَور ضروری قرار دیا کہ وہ یاغستان چلے جائیں اَور ضروری کارروائی عمل میں لائیں، اِسی طرح مرکز یاغستان اَور اُس کے کارکنوں کو لکھا چنانچہ جب حاجی صاحب پہنچے مجاہدین کا جمگٹھا شمار سے زیادہ ہو گیا۔ 
مجاہدین ِچمر قند (حضرت سیّد اَحمد صاحب شہید) کی جماعت بھی مل گئی بالا خر کچھ عرصہ بعد جنگ چھڑ گئی اَور بفضلہ تعالیٰ مجاہدین کوغیر متوقع کامیابی ہونے لگی اَور اَنگریزوں کو جانی اَور مالی بے حد نقصان اُٹھا کر اَپنی سر حد پر لوٹ آنا پڑا اَور اَپنے اِستحکامات ِ قدیمہ میں پناہ لینا ناگریز ہو گیا۔ (تحریک ِشیخ الہند   ص  ١١٦  تا  ١١٨) 
 تاریخ ِدارُالعلوم میں تحریر ہے  : 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter