ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
بار بار حاجی ترنگ زئی صاحب سے اِستدعاء کی گئی کہ وہ اَپنے وطن کو چھوڑ دیں اَور اَنگریزی حدود سے باہر جا کر اِن مقاصد کے لیے کوشش کریں ۔اُن کو مختلف مجبوریاں دَرپیش تھیں اُن کوحل کرنے کے خیال سے وہ تاخیر فرما رہے تھے کہ جنگِ عمومی چھڑ گئی اَورتُرک بھی مجبور کر دیے گئے کہ جنگ کا اِعلان کردیں اُن کے دو جنگی جہاز جو اُنہوں نے اِنگلستان میں بنوائے تھے اَور اُن پر کروڑوں اَشرفیاں خرچ ہوئی تھیں اَنگریزوں نے ضبط کر لیے اَور اِسی قسم کے دُوسرے غیر منصفانہ معاملات اُن سے پیش آئے جو کہ اُن کو جنگ میں گھسیٹنے والے تھے۔ یہ اُن معاملات کے علاوہ تھے جو کہ طرابلس ،غرب اَور بلقان، کریٹ، یونان وغیرہ میں قریبی زمانہ میں پیش آئے تھے۔ بہرحال ترکی حکومت نے مجبور ہو کر اعلانِ جنگ کردیا تو اِس پر تقریبًا آٹھ یا نو محاذوں سے حملہ کیا گیا۔ اَنگریزوں نے عراق (بصرہ) پر، عدن پر ،سویز پر، چناق قلعہ پر۔ اِسی طرح رُوس نے متعدد تین چار محاذوں پر۔ اِس یورش کی وجہ سے مسلمانوں میں جس قدر بھی بے چینی ہوتی کم تھی چنانچہ اَحوالِ موجودہ سے حضرت شیخ الہند نے حاجی ترنگ زئی صاحب کو مطلع کیا اَور ضروری قرار دیا کہ وہ یاغستان چلے جائیں اَور ضروری کارروائی عمل میں لائیں، اِسی طرح مرکز یاغستان اَور اُس کے کارکنوں کو لکھا چنانچہ جب حاجی صاحب پہنچے مجاہدین کا جمگٹھا شمار سے زیادہ ہو گیا۔ مجاہدین ِچمر قند (حضرت سیّد اَحمد صاحب شہید) کی جماعت بھی مل گئی بالا خر کچھ عرصہ بعد جنگ چھڑ گئی اَور بفضلہ تعالیٰ مجاہدین کوغیر متوقع کامیابی ہونے لگی اَور اَنگریزوں کو جانی اَور مالی بے حد نقصان اُٹھا کر اَپنی سر حد پر لوٹ آنا پڑا اَور اَپنے اِستحکامات ِ قدیمہ میں پناہ لینا ناگریز ہو گیا۔ (تحریک ِشیخ الہند ص ١١٦ تا ١١٨) تاریخ ِدارُالعلوم میں تحریر ہے :