ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
تحریک ِ شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے بارے میں حضرت مولانا السیّد حسین اَحمد المدنی رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں کہ ''اِس طرح کے اِنقلاب کے لیے محفوظ مرکز اَور مرکز کے علاوہ اَسلحہ اَور سپاہی (مجاہدین) وغیرہ ضروری ہیں۔ بنا بریں مرکز یا غستان (آزاد قبائل) قرار دیا گیا کہ وہاں اَسلحہ اَور جانباز سپاہیوں کا اِنتظام ہونا چاہیے اِس کے علاوہ چونکہ آزاد قبائل کے نوجوان ہمیشہ جہاد کرتے رہتے ہیں اَور قوی ہیکل اَور جانباز ہوتے ہیں اِس لیے اُن کو متفق اَور متحد کرنا اَور اُن میں جہاد کی رُوح پھونکنا بھی ضروری تصور کیا گیا اَور اِن ہی سے کامیابی کی اُمید قائم کی گئی۔ اِس بنا پر ضروری سمجھا گیا کہ مندرجہ ذیل اُمور عمل میں لائے جائیں : (١لف) اِن علاقوں کے باشندوں سے آپس کے نزاعاتِ قدیمہ اَور قبائلی دُشمنیوں کو مٹایا جائے۔ (ب) اُن میں اِتحاد و ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ (ج) اُن میں جوشِ جہاد اَور آزادی کی تڑپ پیدا کی جائے۔ (د) حضرت سیّد اَحمد صاحب شہید رحمة اللہ علیہ کے لوگ (جماعت مجاہدین ِ سرحد) جو کہ ستھانہ اَور چمر قند میں مقیم ہیں اَور اُن میں اَور قبائل میں تنفر اَور شکر رنجیاں عرصہ سے چلی آتی ہیں اُن کو دُور کرنا چاہیے چنانچہ اِس کے لیے مولانا سیف الرحمن صاحب کو دہلی سے، مولانا فضل ربی اَور مولانا فضل محمود صاحب کو پشاور سے بھیجا اَور مولانا محمد اَکبر صاحب وغیرہ کو آمادہ کیا۔ حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے اِس علاقہ میں بہت سے شاگرد اَور مخلص موجود تھے اِن سبھوں نے گاؤں گاؤں اَور قبیلہ قبیلہ میں پھر کر زمین ہموار کی اَور ایک عرصہ میں بفضلہ تعالیٰ بڑے درجہ تک کامیابی نظر آنے لگی۔ اِن ہی مقاصد کے لیے