ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
بھی فرمایا کہ یوسف خاں اَور آصف خاں جب ایک مرتبہ حضرت گنگوہی کے یہاں حاضر ہوئے تو حضرت گنگوہی نے فرمایا کہ اَگر حکومت آپ کے خاندان میں منتقل ہو تو پوری طرح عدل و اِنصاف سے کام لینا۔ اُس وقت اِنتقالِ حکومت کا خیال بھی نہیں تھا مگر واقعہ یہی ہوا۔ نیز سردار ہاشم خاں نے فرمایا کہ اُن کے یہاں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی کلاہ مبارک محفوظ تھی جب کوئی شدید بیمار ہوتا تواُن کی والدہ مریض کو ٹوپی پہنادیا کرتی تھیں اللہ تعالیٰ شفا بخش دیتا تھا۔ ( ملخصًا اَز اَسیرانِ مالٹا ص ١١ ، ١٢ ) دارُالعلوم دیوبند سے سب سے پہلے سال فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی تعداد سات تھی اُن میں اَکثریت اُن طلبہ کی تھی جو پنجاب اَور اَفغانستان کے رہنے والے تھے۔ (١) نور محمد جلال آبادی (کابل) (٢) عبداللہ جلال آبادی (کابل) (٣) بدرالدین عظیم آبادی (٤) قادر بخش عظیم آبادی (٥)عبدالکریم پنجابی (٦) نبی اَحمد پنجابی (٧) حافظ عبد الرحیم بنارسی ۔(رُوداد ١٢٨٣ ہجری ، اَسیرانِ مالٹا ص ١٠) اِسی کتاب میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں : ''سلاطین اِسلام کے زمانہ میں کابل ہندوستان کاجزو رہا ہے اَنگریزوں نے بھی اِس کااِرادہ کیا مگر ناکام رہے حضرت سیّد صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کی جدوجہد نے ہندوستانی اَور سرحدی مجاہدین میں ایک رابطہ قائم کر دیا جو اَنبالہ اَور پٹنہ کے حضرات کے زمانہ ١٨٦٤ء تک اِستحکام کے ساتھ باقی رہا۔ اِن حضرات کے بعد اِمداد رسانی کا وہ تعلق ختم ہو گیا مگر مجاہدین کا رابطہ ختم نہیں ہوا، ہندوستانی مجاہدین سرحدی علاقوں میں باقی رہے دارُالعلوم دیوبند نے اِس رابطہ کو اُستادی اَور شاگردی کی شکل میں تبدیل کردیا۔ ''(اَسیرانِ مالٹا ص ٢٤ ملخصًا )