Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013

اكستان

22 - 64
بھی فرمایا کہ یوسف خاں اَور آصف خاں جب ایک مرتبہ حضرت گنگوہی کے یہاں حاضر ہوئے تو حضرت گنگوہی نے فرمایا کہ اَگر حکومت آپ کے خاندان میں منتقل ہو تو پوری طرح عدل و اِنصاف سے کام لینا۔ اُس وقت اِنتقالِ حکومت کا خیال بھی نہیں تھا مگر واقعہ یہی ہوا۔ نیز سردار ہاشم خاں نے فرمایا کہ اُن کے یہاں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی کلاہ مبارک محفوظ تھی جب کوئی شدید بیمار ہوتا تواُن کی والدہ مریض کو ٹوپی پہنادیا کرتی تھیں اللہ تعالیٰ شفا بخش دیتا تھا۔ 
( ملخصًا  اَز  اَسیرانِ مالٹا  ص ١١  ،  ١٢ )  
دارُالعلوم دیوبند سے سب سے پہلے سال فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی تعداد سات تھی اُن میں اَکثریت اُن طلبہ کی تھی جو پنجاب اَور اَفغانستان کے رہنے والے تھے۔ 
(١) نور محمد جلال آبادی (کابل) (٢) عبداللہ جلال آبادی (کابل) (٣) بدرالدین عظیم آبادی (٤) قادر بخش عظیم آبادی (٥)عبدالکریم پنجابی (٦) نبی اَحمد پنجابی (٧) حافظ عبد الرحیم بنارسی ۔(رُوداد ١٢٨٣ ہجری  ،  اَسیرانِ مالٹا  ص ١٠) 
اِسی کتاب میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں  : 
''سلاطین اِسلام کے زمانہ میں کابل ہندوستان کاجزو رہا ہے اَنگریزوں نے بھی اِس کااِرادہ کیا مگر ناکام رہے حضرت سیّد صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کی جدوجہد نے ہندوستانی اَور سرحدی مجاہدین میں ایک رابطہ قائم کر دیا جو اَنبالہ اَور پٹنہ کے حضرات کے زمانہ ١٨٦٤ء تک اِستحکام کے ساتھ باقی رہا۔ اِن حضرات کے بعد اِمداد رسانی کا وہ تعلق ختم ہو گیا مگر مجاہدین کا رابطہ ختم نہیں ہوا، ہندوستانی مجاہدین سرحدی علاقوں میں باقی رہے دارُالعلوم دیوبند نے اِس رابطہ کو اُستادی اَور شاگردی کی شکل میں تبدیل کردیا۔ ''(اَسیرانِ مالٹا  ص ٢٤  ملخصًا )
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 جھوٹے نبی کا فتنہ : 6 2
4 عیسائیوں کی طرف سے حملے : 6 2
5 حضرت عثمان کی کیفیت : 6 2
6 نجات کا مدار کیا ہے ؟ 8 2
7 اِسلام پوری دُنیا میں پھیل کر رہا : 9 2
8 فرانس کا سکہ اَور کلمہ ٔطیبہ : 10 2
9 چین کے حاکم کو دعوت نامہ : 10 2
10 صدیوں اِسلام دُنیا کی واحد سپر پاور رہا : 10 2
11 اِسلام کی راہ میں حکمران رُکاوٹ ہیں : 11 2
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر٦٥ 13 1
13 حضرت سیّد اَحمد شہید نور اللہ مرقدہ 13 12
14 قسط : ٢٥ پردہ کے اَحکام 29 1
15 فیشن پرستی : 29 14
16 دُوسری قوموں کا لباس اَور فیشن اِختیار کرنا عقل و نقل کی روشنی میں : 30 14
17 شرعی دلیل : 31 14
18 تشبہ یعنی دُسری قوموں کے طور طریق اِختیار کرنے کے شرعی اَحکام : 33 14
19 تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان : 33 14
20 ضروری تنبیہ اَز مرتب : 34 14
21 دُوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اِختیار کرنا : 35 14
22 قسط : ٢١سیرت خُلفَا ئے راشد ین 37 1
23 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 37 22
24 فاروقِ اَعظم کے گشت کے چند واقعات : 37 22
25 نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 44 1
26 تھرڈ پارٹی اِنشورنس، جبری : 44 25
27 گلدستۂ اَحادیث 50 1
28 سجدہ سات اَعضاء پر اَور رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے : 50 27
29 حج نہ کرنے یا حج میں تاخیر کے حیلے بہانے 53 1
30 کیا حج بڑھاپے میں کرنے کا کام ہے ؟ 54 27
31 حج سے پہلے نماز روزہ کا بہانہ : 56 27
32 حج کے بعد گناہ نہ ہوجانے کا بہانہ : 56 27
33 پہلے کچھ کھا کمالیں : 57 27
34 گھر میں حج کا ماحول نہیں : 58 27
35 پہلے والدین کو حج کرانا : 58 27
36 پہلے گھر کے سربراہ کا حج کرنا : 58 27
37 بیوی یا والدہ کو ساتھ لے جانے کا عذر : 59 27
38 اپنی شادی کا بہانہ : 59 27
39 بچیوں کی شادی کا مسئلہ : 60 27
40 بچوں کو کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
41 کاروبار کس کے حوالے کریں ؟ 60 27
42 حج کے بجائے عمرہ کرنا : 61 27
43 بقیہ : نظام سرمایہ داری کی لوٹ مار کا ایک اَور کرتب 61 25
44 اَخبار الجامعہ 62 1
45 وفیات 63 1
Flag Counter