ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
اَفغانی کے توسط سے ہمیں ہدایات مل جاتی ہیں۔ ہم باہر جا کر سمجھ سکے ہیں کہ اِمام عبدالعزیز سے مولانا شیخ الہند تک ہمارے تمام اَکابر ایک سلسلہ میں کام کرتے رہے ہیں۔ (مقدمہ تحریک ِشیخ الہند ص ١١ ، ١٢) حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس سرہ ١٢٩٢ھ میں دارُالعلوم دیوبند کے لیے دیوبند تشریف لائے اَور ١٢٩٦ھ میں آپ کا وصال ہو گیا۔ آپ کے بعد اِن اُمور کی ذمہ داری حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب رحمة للہ علیہ پر آئی۔ اُس وقت حضرت حاجی اِمدادُ اللہ صاحب مکہ مکرمہ میں اَور حضرت مولانا رشید اَحمد صاحب گنگوہ میں تشریف فر ما تھے حضرت حاجی صاحب کا وصال ١٣٢١ھ میں اَور حضرت مولانا گنگوہی کا ١٣٢٣ھ میں ہوا۔ ١٨٥٧ء میں جہاد ِشاملی کے بعد تحریکِ جہاد مخفی کر دی گئی تھی، کام کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ والد ماجد حضرت مولانا السیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ نے اَپنی کتاب'' اَسیرانِ مالٹا'' میں تحریر فرمایا ہے : ''ظاہر شاہ کے خاندان کے بزرگ یوسف خاں اَورآصف خاں کو اَمیرِ کابل عبدالرحمن خاں نے جلاوطن کر دیا تھا اَور برطانیہ سے اَپنے تعلق کی بناء پر اِن کو برطانوی ہند میں نظر بند کرادیا تھا۔ وائسرائے ہند نے اِن کے قیام کے لیے دہرہ دون تجویز کیا۔ یہ سالہا سال دہرہ دون میں رہے۔ دہرہ دون دیوبند سے تقریبًا ساٹھ میل کے فاصلہ پر ہے۔ حضرت مولانا رشید اَحمد صاحب گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے وطن شریف گنگوہ سے بھی تقریبًا اِتنا ہی فاصلہ ہے یہ دونوں حضرات حضرت گنگوہی اَور حضرت مولانا محمد قاسم رحمہم اللہ کے اِرادتمند تھے۔ حضرت گنگوہی یہاں حاضر ہوا کرتے تھے۔ حضرت مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارُالعلوم دیوبند جب کابل تشریف لے گئے تو اِس خاندان کے حضرات نے وہی اِحترام کیا جو پیر زادوں کا کیاجاتا ہے اَور یہ