ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
''اِمام ولی اللہ دعوی کرتے ہیں کہ ہند کے مسلمانوں سے اَپنی حکومت قائم کرنے کی طاقت اِس وقت اَفاغنہ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ (خیر ِ کثیر) ہم جانتے ہیں کہ اَفاغنہ بھی ہندوستان کے اَقوام میں سے ایک قوم ہے جس میں اِیرانی، ترکی، اِسرائیلی، عربی قبائل مخلوط ہو چکے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اِ سی غرض سے اِمام عبدالعزیز اَپنی اِنقلابی پارٹی کو اَفغانوں سے ملانا ضروری سمجھتے ہیں۔ اِمام عبدالعزیز کے آخری کاموں کا مرکز اَلامیر اَلشہید اَور مولانا عبدالحی اَور مولانا محمد اِسماعیل کا اِجتماع تھا۔ اُن کے لیے اَفغانستان کی ہجرت کا فیصلہ اِمام عبدالعزیر نے کیا تھا اگرچہ عمل اُن کی وفات کے بعد شروع ہوا۔ '' (مقدمہ تحریک ِشیخ الہند ص ١١) دارُالعلوم دیوبند کے قیام سے بھی پہلے سے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اَور اَکابر دارُالعلوم کا اَفغانی حضرات سے تعلق بیان کرتے ہوئے مولانا سندھی لکھتے ہیں : ''ہمیں معلوم ہے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کو رسول اللہ ۖ سے رُوحانی طور پر معلوم ہوا تھا کہ اَفغانوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ مدرسہ دیوبند اَور اُس کے متخرجین میں مولانا شیخ الہند کا مقام مخفی نہیں وہ تخمینًا چالیس برس مدرسہ چلاتے رہے ہیں ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ دیوبند نے جس قدر طالب ِعلم یو ۔پی میں پیدا کیے اُس کے بعد اُس نے اَپنے طالب علم سب سے زیادہ اَفغانستان اَور اُس کے دونوں طرف یاغستان اَور ترکستان میں پھیلائے ہیں۔ مولانا شیخ الہند کی خاص تربیت کا نتیجہ تھا کہ ہم کابل میں سات سال حکومت کا اِعتماد حاصل کر کے رہ سکے۔ ہمارا خیال ہے کہ ''جمعیة الانصار'' اَور ''نظارة المعارف'' میں اَگر کام نہ کر چکے ہوتے تو ہمارا کابل جانا محض بے کار ہوتا۔ عجب معاملہ ہے کہ حضرت شیخ الہند کے حکم سے ہمیں بغیر پروگرام کے کابل جانا پڑتا ہے پھر حکومت