ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
٢۔ مولانا مملوک علی دہلی کالج کے مدرس تھے دیوبندی تحریک کے اَکثر اَساتذہ مولانا مملوک علی کے شاگرد ہیں جس سال مولانا محمد اِسحاق مکہ مکرمہ پہنچے اُسی سال وہ حج کو گئے مولانا محمد یعقوب نے سوانح ِمولانا محمد قاسم میں کسی خاص مقصد کو ملحوظ رکھ کر اِس کا اِجمالی ذکر کیا ہے۔ (الف) مولانا محمد اِسحاق اَور مولانا محمد یعقوب کی جاگیر سے جو روپیہ حاصل ہوتا تھا اُس کا اِنتظام ایک جماعت کے ہاتھ میں رہا ہے اُس میں مولانا مملوک علی اَور مولانا مظفر حسین خاص حیثیت رکھتے تھے۔ (ب) مکہ معظمہ سے واپس آکر اَلامیر اِمدادُاللہ بھی اِسی سوسائٹی میں شامل ہوگئے۔ (ج ) اِن لوگوں کے متبعین کو ہم اِمام محمد اِسحاق کی'' دہلوی پارٹی'' کہتے ہیں جس کے رہنما اَلامیر اِمدادُ اللہ تھے۔ سقوطِ دہلی کے بعد اِس دہلوی پارٹی کے اَفراد منتشر ہوگئے یہاں تک کہ اَ لامیر اِمدادُاللہ مکہ معظمہ پہنچے اَور مولانا محمد قاسم بھی نام بدل کر حج کے لیے نکلے ،مولانا محمد یعقوب کے مکتوبات میں اِس سفر کا پورا تذکرہ موجود ہے۔ اَمیر اِمدادُاللہ نے مکہ معظمہ میں فیصلہ کیا کہ اِمام عبدالعزیز کے مدرسہ کی طرح دہلی سے باہر مدرسہ بنایا جائے اَور اِمام محمد اِسحاق کے طریقہ پر نئی جماعت تیار کی جائے۔ اِس جماعت کے اِمتیازی اَوصاف میں ہم وحدة الوجود ، حنفی فقہ کا اِلتزام ، ترکی خلافت سے اِتصال ، یہ تین اُصول معین کر سکتے ہیں۔ '' (مقدمہ تحریک ِشیخ الہند ملخصًا اَز ص ٢٠ تا ٢٢ ) حضرت سیّد اَحمد شہید رحمة اللہ علیہ نے آزاد قبائل کو اَپنا مرکز کیوں بنایا ؟ اِس سوال کا جواب بھی مولانا عبیداللہ سندھی کی اِسی تحریر میں ملتا ہے وہ لکھتے ہیں :