ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
مولانا عبیداللہ سندھی اِسی مضمون میں دُوسری جگہ لکھتے ہیں : ''مولانا اِسحاق رحمہ اللہ کو ہم اُن کے جد اَمجد کی تحریک کاایسا اِمام مانتے ہیں جن کے متعلق اِلہامی پیشنگوئی اِس خاندان میں متوارث ہے یعنی ہم اِمام محمد اِسحاق کو اِس تحریک کی علمی اَور سیاسی مصلحت کا محافظ مانتے ہیں اَور حکومت کا ایک نائب اَمیر اِس لیے اَمیر کی شہادت کے بعد وہ ایک اَمیر بن جائے گا۔ ١۔ (الف) اَلا میر اِمدادُ اللہ کا تعلق اِمام محمد اِسحاق سے اَوّلاً وآخراً ثابت ہے شروع میں اَمیر اِمدادُ اللہ مولانا محمد اِسحاق کے مدرسہ میں طالب علمی کرتے رہے اُسی زمانہ میں مولانا محمد اِسحاق کے داماد اَور خلیفہ مولانا نصیرالدین سے کسب ِطریقہ کیا یہ وہی مولانا نصیرالدین ہیں جنہیں مجاہدین نے بالاکوٹ میں پہلا اَمیر بنایا تھا، اِن کی جگہ پر آگے چل کر مولانا ولایت علی کا خاندان آیا ہے۔ (ب) اِمام محمد اِسحاق جس سال وفات پاتے ہیں اُسی سال اَ میر اِمدادُ اللہ حج کے لیے گئے اِمام محمد اِسحاق نے اَپنے طریقہ کی خاص ہدایتیں دے کر اُنہیں ہند واپس بھیجا ۔یہ بھی روایت ہے کہ اُنہیں یہ پیشنگوئی بھی سنائی کہ ایسا وقت آئے گا جب تم مکہ معظمہ میں بیٹھ کر کام کروگے۔ (ج) اَمیر اِمدادُاللہ شیخ نور محمد جھن جھانوی کے خلیفہ ہیں اَور وہ شاہ عبدالرحیم اَفغانی کے، یہ دونوں حضرت اَمیر شہید کے نامور خلفاء میں سے ہیں۔ شاہ عبدالرحیم تو''پنجتار ''میں شہید ہوئے۔ (د) اَلا میر اِمدادُ اللہ کے رُفقاء میں حکیم ضیاء الدین رامپوری ١ ہیں جو مولانا شہید کے خواص اَصحاب میں تھے اِن کا ذکر سوانح اَحمدیہ میں موجود ہے۔ ١ رامپور منہیاران ضلع سہارنپور کا ایک موضع ہے۔