ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
جماعت فنا نہیں ہوتی۔ (الف) اِس فرق کو واضح کرنے کے لیے ہم نے اِمام اَور اَمیر کی اِصطلاح اِستعمال کی ہے ہم اِمام عبدالعزیز کے بعد پارٹی کے نظام کا محافظ اِمام محمد اِسحاق کو مانتے ہیں اَور حکومت میں اَمیر المومنین السیّد اَحمد الشہید ہیں۔ اِس معاملہ میں اِمام محمد اِسحاق اِن کے نائب ہیں۔ (ب) یورپ کی سیاسی پارٹیوں میں نظام کا محافظ ایک بورڈ ہوتا ہے اُسے ڈسپلن یا اِنضباط کا نام دیا جاتا ہے۔ اِس بورڈ کا حکم پارٹی کے سب ممبروں پر نافذ ہوتا ہے اَور حکومت چلانا وزراء کا کام ہے ۔اِسی اَنداز پر ہم نے حکومت کا خاتمہ بالاکوٹ میں ایک حدتک مان لیا ہے مگر ہم پارٹی کے نظام کو دہلی میں محفوظ مانتے ہیں۔ (ج) اِمام محمد اِسحاق نے مکہ معظمہ ہجرت کر لی بظاہر وہ اَپنے کام سے معطل ہوگئے مگر ایسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر وہ مکہ معظمہ میں ہندوستانی کام جاری نہ رکھتے تو کمپنی بہادر اُن کی جاگیر کیوں ضبط کرتی اَور بمبئی سے ایسے ہندوستانی کیوں بھیجے جاتے جو اِنہیں وہابی ثابت کر کے حجاز سے نکلوانا چاہتے تھے مگر قدرتی اِتفاقات سے وہ بچ گئے اُس زمانہ کا شیخ الحرم ایک ہندوستانی مہاجر کا بیٹا تھا اَور یہ خاندان شاہ عبدالعزیز کا شاگرد اَور مرید ہے۔اِس لیے شیخ الحرم کے توسط سے ترکی حکومت نے اَپنے گھر میں ایک طرح نظر بند کردیا وہ مسجد ِ حرام میں نماز پڑھتے تھے مگر کسی کو پڑھا نہیں سکتے تھے۔ اِس قسم کی زندگی ہم کابل میں گزار چکے ہیں اِس لیے ہم مکہ معظمہ میں اُن کے ملنے والوں سے بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ (٣) اَلا میر اِمدادُاللہ جو دیوبندی جماعت کے اِمام ہیں اِمام محمد اِسحاق کے خواص اَصحاب میں سے تھے اِس سے پارٹی کے نظام کا تسلسل ہم مولانا شیخ الہند تک ثابت کر سکتے ہیں۔ (مقدمہ تحریک ِشیخ الہند ص ١٤ ، ١٥ )