ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
چلانا سیکھ لیں۔ (اَوکما قال) یہ وہ اَساس ہے جس پر ہم اَمیر شہید کی حکومت کو حکومت ِموقتہ کہنا جائز سمجھتے ہیں۔ ''مقامات ِ طریقت ''میں مذکور ہے کہ اَمیر شہید کے اَصحاب میں ایک مجاہد عالم جو پہلے بھی حاکمِ لاہور سے مِل چکا تھا بالاکوٹ کے معرکہ میں گرفتار ہو کر لاہور آیا، حاکم نے اُس مجاہد سے پوچھا اَب خلیفہ کہاں ہے ؟ اُس عالم نے جواب دیا میں خلیفہ ہوں۔'' (مقدمہ تحریک ِشیخ الہند ص ١٧۔ ١٨ مکتبہ محمودیہ لاہور ) کسی تحریک کی اِس سے زیادہ بڑی کیا کامیابی ہو گی کہ اُس کا ہر فرد اُس کے مقاصد کی تکمیل کا خود کو ذمہ دار سمجھنے لگے۔ یہ حضرت سیّد شہید کے اِخلاص پھر اُس کے جاری رہنے والی برکات کا بہت بڑا ثمرہ ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے لے کر حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہما تک اِس طرح سلسلہ بیان فرماتے ہیں : ١۔ (الف ) : ایک اِنقلابی تحریک میں پہلا درجہ ہے۔ ''سو سائٹی میں اِنقلاب کے لیے عقلی نظام (فلسفہ) سوچنا۔'' اِس دَرجہ کو ہم اِمام ولی اللہ میں منحصر مانتے ہیں۔ (ب) اِس کے بعد دُوسرا دَرجہ اِس کے پرو پیگنڈے کا ہے ۔پرو پیگنڈے کی کامیابی پر پارٹی کا نظام بنتا ہے جو اَپنے ممبروں پر حکومت پیدا کرتا ہے (یعنی خلافت ِباطنہ) اِس دَرجہ کو ہم اِمام عبدالعزیز کا کمال مانتے ہیں۔ (ج) اِس کے بعد تیسرا دَرجہ دُوسری پارٹیوں سے مقابلہ کر کے اُن کے مقبوضات فتح کرنا ہے ۔ اِس سے اِنقلابی حکومت (خلافت ِ ظاہرہ) پیدا ہوتی ہے ہم اِمام ولی اللہ کی تحریک میں یہ دَرجہ اَمیر شہید اَور اُن کے رُفقاء میں محدود کر دیتے ہیں۔ ٢۔ پارٹی کا نظام مستقل ہوتا ہے حکومت کبھی بنتی ہے کبھی ٹوٹتی ہے پارٹی کا وجود اُس وقت تک سالم مانا جاتا ہے جب تک اُس کی اَساسی مصلحت قائم کرنے والی