ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
اكستان |
|
''یوسف زئی کے علاقہ میں پہنچ کر جب اَمیر شہید، اَمیر المو منین مانے گئے اَور ہند میں اِمام ولی اللہ کے اَتْباع نے اِس اَمارت کو تسلیم کر لیا تو وہ حکومت کے مالک ہو گئے۔ حکومت کی مصلحت میں ہماری تحقیق ''حِزب'' کی آمریت (پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ) تو مان سکتی ہے مگر کسی فرد کے ڈکٹیٹربننے کو ہم قبول نہیں کر سکتے۔ اِسے ہم ( شَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ) کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اِس کی تشریح اَبوبکر رازی کے ''اَحکام القرآن'' میں ملے گی۔ ''حجة اللہ البالغہ'' کے بعد اگر کسی کتاب نے ہماری سیاسی بصیرت بڑھائی ہے تو وہ یہی کتاب ہے۔ ہم اِس حکومت کو'' حکومت ِ مُوَّقَّتَہْ '' کہتے ہیں ہمارا مطلب یہ ہے کہ لاہور فتح کر کے یہ حکومت دہلی پہنچتی ہے تو مستقل حکومت کا فیصلہ اُس وقت ہوگا، یا تو شاہ ِ دہلی اِس اِنقلابی حکومت کے رئیس کو وزیرِ اَعظم مان لیتا اَور اُن کی پارٹی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) بن جاتی، دُوسری صورت میں یعنی اَگر شاہِ دہلی اِس حکومت کو تسلیم نہ کرتا تو اِسے معزول کر کے اِس حکومت کا رئیس مُلک کا حاکم ہوتا اَور اِس کی پارٹی اَپنا قانون نافذ کرتی۔ کیا اِمام عبدالعزیز کا خلیفہ دہلی کو بھول سکتا ہے جسے وہ حرمین اَور قدس اَور نجف کے بعد ساری دُنیا سے اَفضل مانتے ہیں۔ ''مقامات ِطریقت ''جس سے سوانح اَحمدیہ کا مصنف بھی نقل کرتا ہے ہم نے مکہ معظمہ میں دیکھی ہے اِس میں ایک واقعہ مذکور ہے : مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وکیل نے اَمیر شہید سے پوچھا کہ اَگر مہاراجہ اِسلام قبول کرلے تو آپ کی حکومت ہمارے ساتھ کیا معاملہ کرے گی ؟ اَمیر شہید نے جواب دیا کہ مہاراجہ بادشاہ ہوں گے اَور میں اَپنی بیٹی اُن سے بیاہ دُوں گا ،محض دینی معاملات میں اُس وقت تک اُس کا نائب رہوں گا جب تک وہ شریعت کا حکم