ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
اِختیار کر گئی، دَر اصل حضرت شیخ الہند کی تحریک ترکِ موالات اَور عدم ِ تعاون اِتنی کار گر ثابت ہوئی کہ صرف ٢٦ سال کے قلیل عرصہ میں برطانوی اِقتدار کے غرور نخوت کے سورج کو ہندوستان کے بوریہ نشین فقیروں نے بحر ہند میں بڑی حقارت و ذلت کے ساتھ غرق کردیا۔ حضرت شیخ الہند اَب اَپنا مشن پورا کر چکے تھے،اپنی چالیس پچاس سال کی اِنتہائی خفیہ اَور خاموش جہد ِ مسلسل کے ذریعے جہاد آزادیٔ وطن کے لیے اَفراد و اَسباب کے سلسلے کی ساری تیاریاں مکمل کر چکے تھے ۔اَب ضرورت رہ گئی تھی صرف ایک ایسے تابوت کی جس میں رکھ کربرٹش ایمپائر کے جنازے کو غرقِ آب کیا جا سکے ۔سو اِس کا بھی اِنتظام حضرت نے خود ہی کردیا یعنی تحریک ترکِ موالات وعدمِ تعاون نے اَنگریزسرکار کے لیے تابوت کا کام کیا جس کو پورے ملک نے ہاتھ لگا کر سات سمندر پار پھینک دیا، وہ خوفناک عفریت جو اُن کی ذلت ونکبت اَور اَفلاس و غربت کا باعث بنا ہوا تھا، جو اُن کے گلے میں غلامی کی زنجیر ،ہاتھوں میں ظلم وتعدی کی ہتھکڑیاں اَور پیروں میںبے کسی اَور بے چارگی کی بیڑیاں ڈالے ہوئے تھا۔ ٣٠ نومبر ١٩٢٠ء مطابق ١٨ ربیع الاوّل ١٣٣٩ھ کو دہلی کے علاقے دریا گنج میں اپنے ایک معتقد معالج اَور جہاد آزادیٔ وطن کی ٹیم کے ایک بہت ہی سرکردہ رہنما مرحوم ڈاکٹر مختار اَحمد اَنصاری کی کوٹھی میں علم وعمل، اِیمان و یقین، عزم و حوصلہ، ہمت و شجاعت اَور اِیثارو قربانی کا یہ نیّرِتا باںہمیشہ کے لیے رُوپوش ہو گیا لیکن اُن کی ہزاروں کرنیں اِنسانیت کی تمام تر اَعلیٰ اَخلاقی اَور عملی قدروں کا نور اَکناف ِعالم میں بکھیر رہی ہیں۔ میرے محترم دوستو! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں اِس وقت ہمارے اَکابر علماء کرام عدم تشدد کی جس پالیسی پر چل رہے ہیں یہ پالیسی حضرت شیخ الہند ہی کی پالیسی ہے، اگر آج ہم فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف سد ِسکندری بنے ہوئے ہیں تو یہ بھی حضرت شیخ الہند کا سبق ہے، اگر تم