Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012

¾اكستان Ù

61 - 65
اِختیار کر گئی، دَر اصل حضرت شیخ الہند کی تحریک ترکِ موالات اَور عدم ِ تعاون اِتنی کار گر ثابت ہوئی کہ صرف ٢٦ سال کے قلیل عرصہ میں برطانوی اِقتدار کے غرور نخوت کے سورج کو ہندوستان کے بوریہ نشین فقیروں نے بحر ہند میں بڑی حقارت و ذلت کے ساتھ غرق کردیا۔ 
حضرت شیخ الہند اَب اَپنا مشن پورا کر چکے تھے،اپنی چالیس پچاس سال کی اِنتہائی خفیہ اَور خاموش جہد ِ مسلسل کے ذریعے جہاد آزادیٔ وطن کے لیے اَفراد و اَسباب کے سلسلے کی ساری تیاریاں مکمل کر چکے تھے ۔اَب ضرورت رہ گئی تھی صرف ایک ایسے تابوت کی جس میں رکھ کربرٹش ایمپائر کے جنازے کو غرقِ آب کیا جا سکے ۔سو اِس کا بھی اِنتظام حضرت نے خود ہی کردیا یعنی تحریک ترکِ موالات وعدمِ تعاون نے اَنگریزسرکار کے لیے تابوت کا کام کیا جس کو پورے ملک نے ہاتھ لگا کر سات سمندر پار پھینک دیا، وہ خوفناک عفریت جو اُن کی ذلت ونکبت اَور اَفلاس و غربت کا باعث بنا ہوا تھا، جو اُن کے گلے میں غلامی کی زنجیر ،ہاتھوں میں ظلم وتعدی کی ہتھکڑیاں اَور پیروں میںبے کسی اَور بے چارگی کی بیڑیاں ڈالے ہوئے تھا۔ 
٣٠ نومبر ١٩٢٠ء مطابق ١٨ ربیع الاوّل ١٣٣٩ھ کو دہلی کے علاقے دریا گنج میں اپنے ایک معتقد معالج اَور جہاد آزادیٔ وطن کی ٹیم کے ایک بہت ہی سرکردہ رہنما مرحوم ڈاکٹر مختار اَحمد اَنصاری کی کوٹھی میں علم وعمل، اِیمان و یقین، عزم و حوصلہ، ہمت و شجاعت اَور اِیثارو قربانی کا یہ نیّرِتا باںہمیشہ کے لیے رُوپوش ہو گیا لیکن اُن کی ہزاروں کرنیں اِنسانیت کی تمام تر اَعلیٰ اَخلاقی اَور عملی قدروں کا نور اَکناف ِعالم میں بکھیر رہی ہیں۔ 
میرے محترم دوستو! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں اِس وقت ہمارے اَکابر علماء کرام عدم تشدد کی جس پالیسی پر چل رہے ہیں یہ پالیسی حضرت شیخ الہند ہی کی پالیسی ہے، اگر آج ہم فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف سد ِسکندری بنے ہوئے ہیں تو یہ بھی حضرت شیخ الہند   کا سبق ہے، اگر تم
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 9 1
4 دین کی برکت : صدمہ بھی، برداشت بھی : 11 3
5 میدانِ جنگ میں ہنسنا مسکرانا : 11 3
6 حضرت خالد کا اِیرانی جرنیل کو دھمکی نامہ : 12 3
7 جانی نقصان بہت ہی کم ،تُرکوں کے خیالات : 12 3
8 ''حدیث ''قرآن کی شرح ہے : 13 3
9 جب نبی علیہ السلام سے محبت ہوگی تو سنت پر عمل آسان ہو جائے گا : 14 3
10 علماء نے بڑی محنت سے لوگوں کی آسانی کے لیے'' فقہ'' مرتب کی : 14 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر ٥٤ 16 1
12 یہ مختصر مضمون تاثرات کا ایک خاکہ ہے۔ 17 1
13 آپ کے چار عظیم واضح و باہر صدقات ِ جاریہ ہیں : 29 1
14 وفیات 31 1
15 قسط : ٢٧ اَنفَاسِ قدسیہ 33 1
16 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 33 15
17 قسط : ١٣ پردہ کے اَحکام 39 1
18 اَجنبی مردوں سے عورت کو گفتگو کرنے کا شرعی طریقہ : 39 17
19 حیاء و فطرت کا مقتضی : 40 17
20 اَجنبی مرد سے نرمی سے گفتگو کرنے کا نقصان : 41 17
21 گفتگو کا طریقہ و قولِ معروف کی تشریح : 41 17
22 بد اَخلاقی و بد تہذیبی کا شبہ : 42 17
23 حیا و شرم کا تحفظ : 42 17
24 بقیہ : اَنفاسِ قدسیہ 43 15
25 سیرت خلفائے راشدین 44 1
26 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 44 25
27 خلافت ِصدیقی کے بابرکت کارنامے : 44 25
28 قسط : ٦اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 47 1
29 اِسلامی صکوک پر تحفظات 48 28
30 اِسلامی صکوک پر پہلا تحفظ : مدیر صکوک کی مرعوبیت 48 28
31 اَصل منصوبے میں حاملین ِ صکوک کی ملکیت : 49 28
32 اِسلامی صکوک پر دُوسرا تحفظ : 50 28
33 (٢) مدرسوں میں حیلہ تملیک عام ہے : 53 28
34 قسط : ٥ ، آخری شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی زندگی ایک نظر میں 56 1
35 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter