ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
''اے نونہالانِ وطن! میں دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان کی آزادی جس کے غم میں میری ہڈیاں پگھلتی جارہی ہیں وہ تمہارے اِتحاد کے بغیر ناممکن ہے، اِس جدو جہد کو مدرسوں اَور خانقاہوں کے علاوہ اسکولوں اَور کالجوں میں بھی شروع کیا جائے گا تب ہی منزل مکمل مل سکے گی، اِسی لیے میں نے اَور میرے چند مخلص اَحباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا ہے اِس طرح ہم نے ہندوستان کے دو اہم تاریخی مقامات دیوبند اَور علی گڑھ کا رشتہ جوڑا ہے۔ '' (٥) ١٩ جولائی ١٩٢٠ء کو خلافت کمیٹی بمبئی کے اِستفسار پر اَنگریزوں سے عدمِ تعاون اَور ترکِ موالات کا فتویٰ دیا جس سے اَنگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کا ذہن اِس قدر بدلا کہ اَنگریزوں کی نوکری اَور اُن کے عطا ء کردہ وظائف و اِعزازات اَور اَلقاب و خطابات کو لوگ عزت کے بجائے حقارت سے دیکھنے لگے۔ ١٩ اکتوبر ١٩٢٠ء کود ہلی میں جمعیة علماء ِہند کا ایک عظیم الشان اِجلاس بلا کر اَنگریزوں سے مکمل عدم ِ تعاون اَور ترکِ موالات کی تجویذ منظور کرائی اَور اِسی اِجلاس میں ترکِ موالات کو ایک تحریک کی شکل دیگر اِس کے رہنما اُصولوں کی خود ہی نشاندہی فرمائی اَور تقریبًا چار سو مستند اَور معتبر علمائے اِسلام کے دستخط سے ایک فتوی جاری کرایا جس میں اَنگریزوں سے کسی بھی طرح کے تعاون کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا۔ اِس فتویٰ پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندؤوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے عمل کیا، ہزاروں ہندوستانی فوجیوں اَور دیگر سرکاری ملازموں نے اپنی اپنی نوکریوں سے اِستعفیٰ دے دیا جس سے جہاد آزادیٔ وطن کی تحریک کو زبردست غذا ملی، آزادی ٔوطن کی جدو جہد جو اَبھی تک خفیہ اَور بہت محدود دَائرہ میں تھی، جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اَور اَنگریزوں سے نفرت ایک جنون کی شکل