ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(٤) ملی اِتحاد کے لیے بھی آپ کی مساعی جلیلہ ناقابلِ فراموش ہیں، ملت ِاِ سلامیہ ہند جو اِختلاف و اِنتشار کے بہت سارے خانوں میں بٹی ہوئی تھی اُس میں ایک زبردست تقسیم قدیم و جدید تعلیم یافتہ طبقات میں تھی اَور یہ دونوں طبقات ایک دُوسرے سے اِس قدر دُور تھے کہ اُن کے قریب ہونے کا تصور بھی محال تھا، قدیم تعلیم یافتہ طبقہ جدید تعلیم والوں کو مسلمان یا اِسلام کاوفادار ماننے کو تیار نہیں تھا تو جدید تعلیم یافتہ طبقہ علماء ِقدیم کو عقل و اِنسانیت سے عاری اَور زمانے کے نشیب و فراز سے بہرہ اَور وحشی تصور کرتا تھا۔ حضرت شیخ الہند نے دونوں کو بہت قریب کیا، ایک طرف جدید علوم والوں میں خدا پرستی اَور دینداری کی رُوح پھونکی تو دُوسری طرف اَنگریزوں کی تعلیم کی اہمیت اَور ضرورت کا احساس دِلا کر علماء ِقدیم کی اِس سے وحشت کو کافی کم کیا، اِس لیے جہاں اِن کے مریدوں اَور معتقدوں میں علماء قدیم کا ایک جم ِ غفیر دِکھائی دیتا ہے وہیں ڈاکٹر مختار اَحمد اَنصاری، حکیم محمد اَجمل خان، نواب وقارالملک، مولانا محمد علی جوہر اَور شوکت علی اَور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان وغیرہ جیسے سینکڑوں جدید تعلیم یافتہ مسلمان بھی آپ کے گرد سمٹ کر آگئے تھے۔ حضرت شیخ الہند کی شہ پر کچھ شاگردوں اَور مریدوں نے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک قومی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اِسلامیہ کے نام سے قائم کرنے کا پروگرام بنایا تو اِس کے اِفتتاح کے لیے اپنے مرشد و مربی حضرت شیخ الہند کو دعوت دی، اُن دِنوں آپ کی طبیعت بہت خراب تھی چنانچہ آپ کے تمام اَحباب نے آپ کو علی گڑھ نہ جانے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے فرمایا کہ اگر میرے جانے سے اَنگریز کو تکلیف پہنچتی ہے تو میں ضرور جاؤں گا، چنانچہ آپ کو پالکی میں لٹا کر دارُالعلوم دیوبند کے طلباء نے اُٹھایا اَور اِس حال میں آپ نے دیوبند سے علی گڑھ کا سفر کیا، نقاہت کی وجہ سے آپ اپنی تحریر کردہ تقریر پڑھ نہیں سکتے تھے اِس لیے آپ نے حضرت مولانا شبیر اَحمد صاحب عثمانی کو حکم کیا، اُنہوں نے آپ کی وہ تقریر وہاں پر پڑھی، آپ نے اپنی صدارتی تقریر میں اِرشاد فرمایا کہ :