ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(٨) جناب ِ رسول اللہ ۖ کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت حضور علیہ السلام اَذان کی آواز سنتے تھے توایسے ہو جاتے تھے کہ گویا ہم کو شناخت ہی نہیں کرتے تھے، چنانچہ جس سال راقم الحروف بانس کنڈی (آسام) تراویح کی نماز کے بعد حضرت کی مجلس میں حاضر ہوا تو حضرت نے خادم سے دریافت فرمایا، آپ کہاں سے آئے ہیں باوجودیکہ میں حضرت کی اِجازت اَور حضرت کے ساتھ دیوبند سے آسام کے لیے روانہ ہوا تھا، اِس قسم کے واقعات متعدد حضرات کو پیش آئے ہیں کہ حضرت غایت دَرجہ اِستغراق کی وجہ سے شناخت نہیں کر پاتے تھے۔ (٩) کثرت ِ ذکر کی وجہ سے آپ کی یہ حالت تھی کہ سونا اَور جاگنادونوں یکساں تھے مجال نہیں کہ سونے کی حالت میں غفلت ہوجائے، نیند آتی تھی مگر ایسی نیند نہیں جیسا کہ ہم کو آتی ہے سونے کی حالت میں بھی آپ کا کوئی پروگرام فیل ہوتے نہیں دیکھا، مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارُالعلوم دیو بند فرماتے ہیں : خور جہ میں ایک ہفتہ حضرت کی معیت میں قیام رہا، روزانہ شب کو جلسے ہوتے اَور رات کا ایک بج جاتا اَور دِن بھر لوگوں کی آمدو رفت یا مخصوص لوگوں کے پاس خود پہنچ کر ملاقات، گویا نہ دِن میں راحت کا موقع نہ شب میں، کسی شب میںدو بجے سے پہلے لیٹنے کی نوبت نہ آتی تھی لیکن تین بجے جب میری آنکھ کھلتی تو میں مولانا کو نوافل یا تلاوت یا ذکر میں مشغول دیکھتا اَور حیران ہوتا تھا کہ یہ دوبجے لیٹ کر آخر تین بجے بے تکلف کس طرح اُٹھ بیٹھے ۔ شب و روز کی اِن خدمات کی وجہ سے اپنی نیند کو اِختیار بنالیا تھا بارہا اِس کی نوبت آئی ہے کہ شب میں حضرات اَساتذہ میں سے کسی کے یہاں دعوت ہوئی اَور ہم سب جمع ہوئے عشاء پڑھتے ہی کھانا تناول فرمایا، میزبان نے چاء کا اِصرار کیا حضرت نے عذر فرمایا کہ مجھے اَبھی سبق پڑھانا ہے دیر ہوجائے گی۔ میزبان کی طرف سے اِصرار ہوا تو فرمایا کہ اچھا کتنی دیر میں چاء تیار ہوجائے گی، عرض کیا گیا