ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
معلوم ہونا چاہیے کہ اِس موقع پر حضرت کے پاس آسام کے چند اَفسر تشریف لائے تھے اُن لوگوں کے سامنے حضرت نے فرمایا تھا معاف فرمائیے گا میں بالکل بھول گیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے وعدہ پورا نہ ہونے کا کتنا بڑا اِحساس ہے۔ یہ کرامت ِ معنوی نہیں ہے تو اَور کیا چیز ہے ؟ (٥) ایک مرتبہ بجنور میں حضرت نے تقریر فرمائی، تقریر شروع کرنے سے پیشتر آپ نے پانی طلب کیا، راقم الحروف نے پانی گلاس میں پیش کیا،آپ نے سنت کے مطابق تین سانس لے کر پانی پیا، اُس وقت مدیرِ مدینہ بھی موجود تھے، مدیر موصوف کا فرمانا ہے کہ جس وقت حضرت نے ہاتھ میں گلاس لیا تومیرا خیال تھا کہ شاید تقریر کی جلدی کی وجہ سے آپ سنت کے مطابق عمل نہ کر سکیں گے لیکن میری حیرت کی اِنتہا نہ رہی جب آپ نے اُس تھوڑھے پانی کو سنت کے مطابق پیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِتباعِ سنت کا اِتنا اِہتمام وہی کر سکتا ہے کہ جس نے اِتباعِ سنت کو عادت ِ ثانیہ بنالیا ہو اَور یہ بہت بڑا کمال ہے۔ (٦) جماعت کی سنت کا اِتنا اِہتمام تھا کہ جس کی نظیر ملنی مشکل ہے مرض الوفات میں ایک دِن حضرت مولانا فخرالدین صاحب ملاقات کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت نے فرمایا کہ لوگوں کا میرے متعلق حسن ِ ظن ہے ورنہ میری حالت تو یہ ہے کہ تیمم سے نماز پڑھتا ہوں، جماعت سے بھی محروم ہوں اَور فرما کر اِس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی، یہ خوف ِ خدا وندی کرامت ِ معنوی نہیں ہے تواَور کیا ہے ؟ مجبوری اَور سخت مجبوری میں سنت ِجماعت کا اِتنا خیال ہے، حضرت کا جب تک بس رہا حالت ِ مرض میں بھی برابر مہمان خانہ میں تشریف لا کر جماعت سے نماز اَدا فرماتے رہے۔ (٧) رسول اللہ ۖ کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْ کُلِّ اَحْیَانِہ ۔ (شرح معانی الآثار رقم الحدیث ٥٨٩) ''رسول اللہ ۖ تمام اَوقات میں ذکر اللہ کرتے رہتے تھے۔'' تمام عمر میں ایک مرتبہ راقم الحروف کو حضرت کاجسم دبانے کااِتفاق ہوا ہے۔ میں نے جسم مبارک دباتے وقت محسوس کیا کہ حضرت کا ہررُواں اَور ہر جوڑ ذکرا للہ میں مشغول تھا۔