ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
دولت کدہ پر پانچ سو مہمان موجود تھے سفر حج کے لیے سامان اَندر سے باہر نکالا جا رہا تھا اَور حضرت اِس کی نگرانی فرما رہے تھے اَور اپنے سامنے ترتیب سے رکھا رہے تھے ہاتھ میں ٹیکہ لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے بخار بھی چڑھا ہوا تھا، جیسے ہی حضرت سے اِس آدمی نے عرض کیا کہ حضرت! آپ نے شوال کا وعدہ کیا تھا بس حضرت نے کچھ نہیں فرمایا اَور فورًا ٹانگہ پرسوار ہو گئے۔ (اِن دونوں موقعوں پر کہ حضرت نے وعدہ فرمایا تھا اَور جب وعدہ پورا کرنے کی خاطر نکاح پڑھانے کے لیے مظفر نگر تشریف لے گئے تھے راقم الحروف موجود تھا۔) وعدہ خلافی جو آج کل فیشن بن گیا ہے عوام نہیں بلکہ خواص بھی'' اِنشاء اللہ'' کی قید لگا کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں۔حضرت کے اِیفاء وعدہ کی یہ مثال ملاحظہ فرمائیں : دُنیاکے مفتیانِ کرام کے پاس گھوم آئیے کوئی بھی اِس کو وعدہ نہیں کہے گا، بالفرض جبکہ ایسی مجبوریوں کی بناء پر شریعت نے ایسے مواقع پرخُلْفُ الْوَعْدِ حَرَام کی قید کو ہٹا لیا ہے اَور ایسی ضرورتوں کی بناء پر شریعت نے وعدہ خلافی کو مباح بھی قرار دیا ہے (اَحکامات و شرائط کی تفصیل الاشْبَاہ والنَّظائر میں ملاحظہ فرمائیں) لیکن حضرت شیخ الاسلام کی ذات تنہا اِس میدان میں چمکتی ہوئی دِکھائی دیتی ہے۔ یہ کرامت ِ معنوی نہیں تو اَور کیا ہے ؟ رُوسی ترکستان کے وفد کے قائد جناب مفتی ضیاء الدین صاحب سے آپ نے فرمایا تھا (یہ اُس وقت کا واقعہ ہے کہ جب یہ وفد حضرت کی خدمت میں آیا تھا اَور حضرت کانپور تشریف لے جانے والے تھے تو مفتی صاحب نے فرمایا تھا آپ ایسے بڑھاپے میں بھی سفر کرتے ہیں؟ تو حضرت نے فرمایا تھا کہ وعدہ کر لیا ہے) اَور ثابت نہیں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔ (٤) مولانا عبدالصمد صاحب وانکانیری (راقم الحروف کے آسام کے رفیق ِ سفر اَور حضرت کے خلیفہ) فرماتے ہیں میں نے حضرت کو اپنی حالت کے بارے میں پرچہ دیا۔ حضرت نے فرمایا اچھا آپ کو ذکر جہری بتاؤں گا اِس کے بعد حضرت بھول گئے۔ جب آسام پہنچے تو ایک دِن مولانا عبدالصمد صاحب کو دیکھ کر فرمایا، معاف فرمائیے گا میں بالکل بھول گیا تھا آپ نے بھی یاد نہیں دِلایا۔