ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2012 |
اكستان |
|
قسط : ٧ مروجہ محفل ِمیلاد ( حضرت مولانا مفتی قاری عبدالرشید صاحب رحمة اللہ علیہ ) اللہ تعالیٰ نے جامعہ مدنیہ لاہور کے سابق اُستاذ الحدیث حضرت مولانا مفتی قاری عبدالرشید صاحب رحمة اللہ علیہ (م: ١٤١٢ھ / ١٩٩٢ئ) کو اِحقاقِ حق اَور اِبطالِ باطل کا خاص ملکہ عطا ء فر یا یا تھا۔ آپ نے و عظ و تلقین اَور اِرشاد و نصیحت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف سے بھی دین کی خدمت و حفاظت کا فریضہ سر اَنجام دیا اِس سلسلہ میں مشقتیں اَور صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ آپ کے تصنیفی مواد میں سے ''مروجہ محفلِ میلاد'' اپنے موضوع پر منفرد اَور تحقیقی کتاب ہے اِس کتاب کی اِفادیت کے پیش نظر اِسے نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ (اِدارہ) علامہ اِبن ِحجر ہیتمی کی عبارت سے اِستدلال اَور اُس کا جواب : علامہ اِبن ِحجر ہیتمی رحمة اللہ علیہ کی ایک عبارت بھی بریلوی حضرات بطور ِاِستدلال پیش کرتے ہیں۔ پہلے ہم پوری عبارت مع ترجمہ ذکر کرتے ہیں پھر ثابت کریں گے کہ اِس عبارت کا مروجہ محفل میلاد سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اُن کی اصل عبارت کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔ ''اَکثر محافلِ میلاد جو ہمارے ہاں رائج ہیں اُن میں اَچھی اَور بری دونوں طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ خیر کی باتیں مثلاً صدقہ و خیرات ،ذکر و درُود و سلام اَور حضور ۖ کی تعریف، اَور بری باتوں میں سے عورتوں کا اَجنبی مردوں کو دیکھنا بھی ہے۔ اَلبتہ بعض محفل ِمیلاد ایسی بھی ہیں جن میں کوئی عیب اَور شرعی خرابیاں نہیں پائی جاتیں لیکن ایسی محفلیں بہت کم اَور نادِر ہیں۔ اَور اِس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی