ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2008 |
¾اكستان Ù |
|
قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرمیں ملازمت کی وجہ سے مجبورنہ ہوتاتوتمام صوبہ میں دورہ کرکے مسلمانوں میں تنظیمی اسکیم کومعمول بہ کراتا۔ ٭ آپ حضرات ذراقوم اِسلام کی خبرگیری کیجئے،اُن بڑوں بڑوں کے بھروسہ پرنہ رہیے،چھوٹے ہی ہمیشہ کام کرتے ہیں۔ ٭ راضی برضائے مولارہناوظیفۂ عبودیت رہے ۔ وَہُوَاَرْحَمُ بِنَامِنْ نُفُوْسِنَا اتباع سنت اوراِحیائے شریعت میں کوشاں رہیں، کم اَزکم دس بے نمازیوں کونمازی بنائیں اوراِس اسکیم کواطراف وجوانب میں جاری کردیں، ہرایک منبراِس اسکیم کاذمہ دارہوکرمردوں اورعورتوں میں سے دس آدمیوں کونمازکاپابندکر دے ، رسوم غیرشرعیہ اوربدعات سے لوگوں کونفرت دلایئے اورجہاں تک ممکن ہومشاغل علوم ِدینیہ جاری رکھیئے۔ ٭ اصلی خدمت دینی یہ ہے کہ انسانوں اوربالخصوص مسلمانوں کودینی تعلیم دی جائے اوراُن کو صحیح العقیدہ اورصحیح العمل بنایاجائے، یہ کام بچوں کوسُدھارنے سے جس قدرمفیداوردیرپاہوتاہے، وہ دُوسرے طریقوں سے نہیں ہوسکتا۔ ٭ بیوی اوربچوں کے حقوق آپ پرواجب ہیں، اِسی طرح والدین ماجدین کے حقوق اوراُن کی خدمت گزاری آپ پرفرض عین ہے، اُدھردین کاپھیلانااورلوگوں کی اصلاح کرنابھی فرض ہے ،مگرفرض کفایہ ہے اِس لیے جب آپ کووالدین ماجدین اوربیوی بچوں کی ضروریات سے فراغت ہوتوتبلیغی کاموں میں لگئے،اسی بناء پرتبلیغ کی اسکیم میں سال بھرکے تمام ایام لوگوں سے نہیں لیے جاتے ہیں بلکہ خالی اوقات یعنی سال میں ایک مہینہ یا پندرہ دِن لیے جاتے ہیں ۔ ٭ جناب رسول اللہ ۖ کے فرائض ظاہرہیں آج ہمارے اورآپ کے سرسے وابستہ ہیں اورچونکہ دشمنانِ اسلام کے زہریلے اثرات اُمت کوبہت زیادہ بربادکررہے ہیں اِس لیے ہمارے فرائض کی شدداور بھی زیادہ ہوجاتی ہے،ایسے وقت میں اپنی نام آو ری ، اپنی راحت، اپنی شہرت، وجاہت طلبی، زرطلبی وغیرہ کو چھوڑ کر اُمت کی مخلصانہ اورسچی خدمات انجام دینااوراُس کومہالک سے نکالنااَشدضروری ہے۔ ٭ میرے عزیزو! اجتماعی کام جس قدرضروری اورجس قدرزیادہ ترمفیداورمؤثرہیں اورتاثیرقومی میں وہ بے مثل بھی ہیں،اِسی قدراُس میں نفس کشی اورطبیعت کے خلاف جفائیں جھیلنابھی ہیں، قدم قدم پرکانٹے ہیں،