ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2004 |
اكستان |
|
قسط : ٤
دعاء کی افادیت و اہمیت
( خطیب ِاسلام حضرت مولانا محمد اجمل خان صاحب )
ادب ٧ :ومنہ الدّعاء بلفظٍ اعجمیٍ جھل معناہ ۔ (مرقات شرح مشکٰوة)
''اور (ممنوعات) میں سے ہے اُن عجمی الفاظ کے ساتھ دعاء کرنا جن کے معنی نہ جانتا ہو''۔
تشریح : جہاں تک ممکن ہو دعاء عربی میں مانگی جائے کیونکہ عربی زبان اشرف اللغات ہے اور عربی زبان کو دوسری زبانوں پر کئی وجوہ سے فضیلت اوربرتری حاصل ہے چنانچہ طریقہ محمدیہ ص٩٢ ج ١ میں فرماتے ہیں :
ففی بستان العارفین اعلم ان العربیة لھا فضل علٰی سائرالالسنة۔ اسی قول کے تحت بریقہ محمودیہ ص ٢٥٥ ج١ میں فرماتے ہیں :عن ابن عباسٍ قال قال رسول اللّٰہ (ۖ) احبّو العرب لثلاثٍ لانّی عربیّ والقرآن عربیّ وکلام اھل الجنة عربی ۔
''ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعرب سے تین باتوں کی وجہ سے محبت رکھو اس لیے کہ میں عربی ہوں ، قرآن عربی ہے اور اہلِ جنت کی گفتگو بھی عربی میں ہوگی''۔
اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیاہے اوراسی مقام پر بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ ص ٢٥٥ ج ١ میں ہے :
واما العربیّة فلھا مزیّة علٰی باقیھا حتّی یکرہ التّکلّم بغیرھا لمن یحسنھا۔