ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2004 |
اكستان |
|
شریف ١٣١٣ہجری میں پڑھایا ہے چنانچہ حضرت مولاناعاشق الٰہی میرٹھی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں :
''الغرض امام ربانی قُدس سرہ کا درس اُس سال تک برابر جاری رہاجس سال میں آپ کی بصارت ضعیف ہوئی اور نزولِ آب نے آپ کو ظاہری بینائی سے معذور بنادیا ، ہجری ١٣١٣اور عیسوی ١٨٩٥ وہ سال ہے جس میں تدریس حدیث کا آخری دورتھا ۔اُسی جماعت میں جناب مولانا محمد یحیٰی صاحب کاندھلوی شریک تھے، یہ دورہ بینائی کے آہستہ آہستہ کمزور ہونے کے زمانہ میں بھی قائم رہا بلکہ جلدی جلدی ہوا کہ کسی طرح ختم ہوجائے آخراثناء سال ہی میں نزلہ کے پانی نے آنکھوں کی پتلی کو گھیر لیا اور حضرت امام ربانی ظاہری تعلقات سے سبکدوش ہو کر اب بالکلیہ اصلاح باطن اورتربیت ِمحضہ میں مشغول ہوگئے''۔ ١
اس سے ثابت ہوا کہ باباجی کے بارہ میں یہ کہنا کہ اُنہوںنے حضرت گنگوہی سے دورۂ حدیث شریف پڑھا ہے تاریخی طورپر غلط ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے پاس دورۂ حدیث شریف پڑھنے کے لیے دور دراز سے آنے والے حضرات باقاعدہ سند لے کر جایا کرتے تھے اس حوالے سے باباجی کے پاس بھی سند ہونی چاہیے لیکن باباجی کے پاس سند معلوم نہیں ہوتی ورنہ وہ اُسے ضرور پیش کرتے۔
تیسرے یہ بات بھی قابلِ غورہے کہ جب باباجی سے دورۂ حدیث پڑھنے کے بارہ میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس بارہ میں مجھ سے کیوں سوال کیا جاتا ہے، کیا میں کسی کے بارہ میں پوچھتا ہوں ۔اگر باباجی نے حضرت گنگوہی سے دورۂ حدیث شریف پڑھا ہوتا تو وہ فخر کے ساتھ اُسے ذکر کرتے ناراض نہ ہوتے ۔اُن کا اس سوال پر برافروختہ ہونا بتلا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت گنگوہی سے دورۂ حدیث شریف نہیں پڑھا۔
حضرت مولانا عبدلمجید صاحب مدظلہ العالی شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا ضلع ملتان نے ایک مجلس میں باباجی سے اس سلسلہ میں استفسار کیاتو باباجی ناراض ہوگئے اور جواب نہیں دیا۔ مولانا فرماتے ہیں کہ پاس ہی اُن کے( بابا جی) کے صاحبزادے تھے اُنہوں نے بتلایا کہ اباجی نے حضرت مولانا نصیرالدین غور غشتوی سے حدیث شریف پڑھی ہے، صاحبزادہ صاحب کی اس با ت سے رسالہ ''راہِ وفا'' میں درج استفادہ کے اس پہلو کی ا زخود تردید ہوجاتی ہے ہم بھی صاحبزادہ صاحب کی اِس بات پر صاد کرتے ہیں۔
اوراگر'' راہِ وفا'' میں علمی استفادہ سے مراد حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی خدمت میں جانا ، اُن کی صحبت میں بیٹھنا
١ تذکرة الرشید ج ١ ص ١٠٠