ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2004 |
اكستان |
|
کے قدموں میں حاضری، اُن کی دُعائوں کا صدقہ ہے یہ سب کچھ ذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء ہمارے بزرگ فرمانے لگے یہ علم کسبی نہیںہے بلکہ یہ بھی ایک وہبی چیز ہے ذالک فضل اللّٰہ یؤ تیہ من یشاء یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے اللہ پاک عطا فرمادیں یعنی آدمی اپنے اختیار سے کوئی بڑا منصب ،کوئی بڑاعہدہ یا کوئی بڑا مرتبہ اور فضیلت حاصل کرنا چاہے یہ نہیں کرسکتا ،اور اس کی کوشش ہوتی ہے اسباب کے درجہ میں ،باقی نواز نا یہ اللہ رب ذوالجلال کے فضل اور اُن کی مہربانی سے ہوتا ہے، تو اپنے اکابر کے ساتھ اپنے بزرگوں کے ساتھ تعلق کی بڑی ضرورت ہے۔ میں حضرت کی خدمت میںایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا تو کوئی صاحب کچھ بات کرنے لگے حضر ت نے ایک بہت مبارک جملہ ارشاد فرمایا ،فرمایا ''ہم لکیر کے فقیر ہیں'' ہمارے بزرگوں نے جو لکیر اور نقوش رقم کردئیے ہیں بس ہم اُسی پر اٰمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہیں گے بس، اُس سے ہم آگے پیچھے نہیں ہو سکتے ۔ ہمارے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں ایک بزرگ ہوتے ہیں وہ فرمانے لگے اِس زمانہ تین دعائیں کرنی چاہئیں ایک یہ کہ یہ فتنوں کا دور ہے اللہ پاک فتنوں سے حفاظت فرمائے ،دوسرے خاتمہ بالایمان نصیب فرمائے خاتمہ بالخیر عطا فرمائے اور فرمایا تیسرے یہ ہے کہ اپنے اکابر کی اندھی تقلید نصیب فرمائے۔ حضرت مولانا عبداللہ صاحب بھکر والے بعض لوگوںکے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ فلاں لوگ اگر میرے سامنے دلائل بھی پیش کردیں او رمجھے کوئی جواب نہ آئے تو میں سمجھوں گا کہ میں کمزور ہوںاِس کامطلب یہ نہیں کہ پیچھے ہمارے بزرگوں کا گودام خالی ہے ،وہ بھرا ہوا ہے میں اپنے بزرگوں کے قدموں میں جا کر اُس کا جواب معلوم کرلوں گا ۔تو اپنے بزرگوں کے ساتھ نسبت اور تعلق کی بڑی ضرورت ہے۔ آخر میں بس ایک بات ہے ہمارے ہاں حسن ٹائون میں سیّد صدیق حسن شاہ صاحب ہوتے ہیں انھوں نے مجھے خود سنایا کہ میں کالج میں پڑھتا تھا تو کچھ مرزائی نوجوان تھے انھوںنے اپنا کوئی لٹریچر تقسیم کیا۔میں نے مرزائیوں کا لٹریچر پڑھا تو میرے ذہن میں عجیب قسم کے شکوک و شبہات اور خیالات پیدا ہونے شروع ہو گئے تو فرمانے لگے میں بڑا پریشان ہوا تو انھوں نے جامعہ اشرفیہ میں جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا صوفی سرور صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں خط لکھا کہ حضرت میں نے مرزائیوں کا لٹریچر پڑھا ہے تو میرے ذہن میں عجیب قسم کے شکوک و شبہات اور خیالات پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں میں کیا کروں؟ توحضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بس جواب میں ایک ہی جملہ فرمایا جوآبِ زر سے لکھنے کے قابلِ ہے حضرت نے جواب میںفرمایا ''تم نے سانپ پکڑنے کا طریقہ سیکھے بغیر سانپ کو پکڑنے کی کوشش کی ہے یہ ڈسے گا نہیں تو اور کیا کرے گا'' ۔ حضرت سیّد صدیق حسن شاہ صاحب فرمانے لگے میں نے حضرت کا یہ جملہ پڑھا میرے سارے شکوک و شبہات ختم ہوگئے ۔