Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002

اكستان

52 - 65
فرمارہے تھے کہ راہ حق میں ایسی کلفت بھی کیسی لذت بخش ہے   ف  مقصود اس قصہ کے نقل کرنے سے مولانا کا یہ قول نقل کرنا تھا جس سے مولانا کامذاق  وأمر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک کے اتباع کا کس قدر و ضوح سے ثابت ہوتا ہے جس میں اپنی ہمت کو قاصر دیکھتاتھا ۔آخر ضعیف وقوی اور ناقص و کامل میں فرق توہونا چاہیے ولنعم ما قیل فی مثل ہذا    
نسازد عشق را کنج سلامت	خوشارسوائی کوئے ملامت 
	وفی ذالک فلیتنافس المتنافسون۔
	جام نمبر ١٥  :    ایک سفرمیں مولانا کی معیت میں بسواری ریل بہاولپورسے واپسی ہورہی تھی ،اتفاق سے اس درجہ میںصرف میںاور مولانا ہی تھے اور فقا ء دوسرے درجہ میں تھے ۔ظہر کا وقت تھا گرمی سخت تھی اور پسینہ کثرت سے نکل رہا تھا ۔مولانا غایت تواضع اور بے تکلفی سے پنکھا ہاتھ میں لے کر مجھ کو ہوا کرنے لگے ۔میں اس کا تحمل کب کر سکتا تھا پریشان ہوکر پنکھا پکڑ لیا فرمانے لگے کیا حرج ہے کوئی دیکھتا تھوڑا ہی ہے ۔یہ اس لیے فرمایا تھا کہ اس وقت درجہ میں کوئی تیسرا نہ تھا۔ میں نے عرض کیا کہ دیکھتا توہے فرمایا کون دیکھتا ہے میں نے کہا کہ جس کے لیے میں آپ کا ادب کرتا ہوں وہ دیکھتا ہے۔ ہنسنے لگے اور پنکھا چھوڑ دیا   ف  کیا انتہا ہے اس بے نفسی کی اپنے چھوٹوں کے ساتھ یہ برتائو اور اس سے بڑھ کر یہ کمال ہے کہ ہے جب دیکھا کہ طبیعت پر گرانی ہے تو اپنے ارادہ پر اصرار نہیں فرمایا اوریہ کمال بڑھ کر اس لیے ہے کہ پہلے عمل میں تواپنے رفیق کے جسم کی رعایت تھی اور دوسرے عمل میں قلب کی رعایت اور ثانی کا اول سے اکمل ہونا ظاہر ہے ۔
	جام نمبر١٦  :  مجھ کو متعدد سفروں میں مولانا کی معیت کا اتفاق رہا ،میں بکثرت دیکھتا تھا کہ محنت مشقت کا کام کرنے میں بوجھ اُٹھانے میں نہ کسی رفیق کا انتظار فرماتے تھے اورنہ کسی اجیر کا ،ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے کو آمادہ ہو جاتے تھے گو خدام اس کی تکمیل نہ ہونے دیتے تھے مگر بعض اوقات خدام سے سبقت فرماجاتے تھے۔ف   اپنا یارفقا ء کا کام اپنے ہاتھ سے کرنا عین اتباع ِسنت ہے کہ حضور اقدس  ۖ  اپنے ہمراہیوں سے ممتاز ہوکر نہ رہتے تھے خصوصاً سفرمیں اور اکثر کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے۔
	جام نمبر١٧  :  ایک بار میں سہارنپور غالباً جلسہ ٔ مدرسہ میں حاضرہوا، بعد جلسہ کے ایک گائوں والوں نے (جس کا نام غالباً شیخوپورہ ہے ) مولانا کو مع دوسرے خدام اور احقر کے مدعو کیا اور اس سے دوسرے دن ایک تاجر چاول مقیم سہارنپور نے ہم سب کی مع بعض مہمانان مقیمین دعوت کی۔ مولانا نے وعدہ فرما لیا کہ گائوں سے واپس آکر دوپہر کا کھانا

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
51 حرف آغاز 4 1
52 درس حدیث 6 1
53 ہر انسان کے لیے استغفار کرنا ضروری ہے 6 52
54 اہم بات : 7 52
55 سبق آموز قصہ : 7 52
56 مبلغ کا کام : 7 52
57 جنت کا استحقاق کسی کو حاصل نہیں ہے : 8 52
58 مبلغ حضرات کے لیے تنبیہ : 9 52
59 انسان اپنے عمل کا وزن متعین نہیں کر سکتا : 9 52
60 صحیح مقام ـ نیکیاں بھی، استغفاربھی : 9 52
61 عبادت کے بعد استغفار اور اس کی حکمت : 9 52
62 مثال سے وضاحت : 10 52
63 فہم دین کورس اور حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ 11 1
64 فہمِ حدیث 16 1
65 نبوت و رسالت 16 64
66 جنت میں مومنین کو جو دیدار الہٰی نصیب ہو گا اس وقت حجاب اُٹھا دیا جائیگا : 16 64
67 معراج کے موقع پر نبی ۖ کو حاصل ہوا : 16 64
68 رسول اللہ ۖ نے حجاب نوری کو آنکھوں سے دیکھا : 19 64
69 فرقہ واریت کیا ہے ؟ اور کیوں ہے؟اورسدباب کیا ہے؟ 20 1
70 فرقہ واریت کے مراکز : 20 69
71 تا ریخی شہادت : 23 69
72 دارالعلوم دیوبند ـ حقائق ـ تاریخ 28 1
73 اور مولاناشاہ احمد نورانی کی غلط فہمی 28 72
74 انسانیت کے خلاف جرائم 32 1
75 واجپائی اور مودی پربرطا نیہ، بلجیم اور 32 74
76 عالمی خبریں 37 1
77 برطانوی مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جارہاہے 37 76
78 تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں 39 76
79 خوا نِ خلیل 40 1
80 تمہید طبع خوا نِ خلیل 40 79
81 خوانِ خلیل 42 79
82 دینی مسائل 55 1
83 ( تیمم کا بیان ) 55 82
84 تیمم کی سنتیں : 55 82
86 تیمم کا مسنون طریقہ : 55 82
87 متفرق مسائل : 56 82
88 تحریک احمدیت 58 1
89 شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار : 58 88
90 جوبلی تقریبات 59 88
91 جاسوس نبی : 60 88
92 تقریظ وتنقید 63 1
93 سمجھ میں نہ آنے والی منطق 65 1
Flag Counter