ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
کے ارشادپرمیں خاموش ہو گیا گو میری رائے اب بھی وہی تھی کہ جانا مناسب نہیں مگر دووجہ سے موافقت کرلی ۔ایک اس وجہ سے کہ منشا اس رائے کا دین ہے گو وہ امر اجتہادی ہے جس میں موافقت واجب نہیں مگر ناجائز بھی نہیں ، دوسرے اس وجہ سے جب مولانا جانے کو تیار ہیں تو میں کیا چیز ہوں کہ اپنی جان بچائوں غرض سارا مجمع وہاں پہنچا مگر رنگ بدلاہوا پایا نہ کسی نے سلام کیا نہ کلام کیا اور امامت کے لیے تو کیا پوچھتے نماز سے فراغت ہوئی ان دوست صاحب نے اعلان کیا کہ وعظ ہو گا فوراً محلہ کے ایک شخص نے نہایت تندآوا ز سے کہا کہ وعظ نہ ہوگا پھر کیا تھا دونوں طرف سے آویزش ہوگئی اور اس قدر شوروغل ہوا کہ خدا کی پنا ہ، جمعہ کی سنتیں بھی بھول گئے اوراس فرض میں مشغول ہوگئے ۔میں اور مولانا ایک کنارہ پرسنتیں پڑھنے لگے مگر مولانا تومطمئن اور میں متفکر کہ دیکھئے اس کا کیا انجام ہوتا ہے اور پولیس کا کہیں نام ونشان نہیں یہاں تک اختلاف کی نوبت پہنچی کہ ایک شخص جاکر منبر پربیٹھ گیا یہ سمجھا کہ جب منبر پر میراقبضہ ہو جاوے گا پھر وعظ کیسے ہو گا ۔اس سے جہل کا اندازہ کر لیا جاوے ۔ایک خان صاحب ہمارے محبین میں اس مزاج کے تھے وہ خنجر لے کر اس منبر نشین پر حملہ آور ہوئے ،ایک خانصاحب ٹونک کے جو سنجیدہ مزاج تھے اس وقت موجود تھے انھوں نے حملہ آور صاحب کا پیچھے سے ہاتھ پکڑ لیا کہ یہ کیاکرتے ہو ،ابھی سب پھنس جاویں گے وہ خفا ہو کر اس مجمع سے چلے گئے اور یہاں شور و غل کی وہی حالت ۔جب میں سنتیں پڑھ چکا اور معلوم کر لیا کہ یہ سارا غیظ اس احتمال پر ہے کہ کہیں وعظ نہ ہونے لگے تو میں نے اس فتنہ کے سرغنہ کو اپنے پاس بلایا۔ غنیمت ہے کہ وہ آبیٹھے اور نہایت غصے سے کہا کہئے میںنے کہا کہ کیا تم کو یہ شبہ ہے کہ وعظ ہوگا سو سن لو وہ واعظ میں ہوں اور میرا وعظ ایسا ارزاں نہیں ہے کہ کسی کے سر ہو کر کہوں میں تو بہت خوشامد کراکر وعظ کہتا ہوں اور اس حالت میں تو میں کسی طرح کہہ ہی نہیں سکتا تم اطمینان رکھو میں ہر گز وعظ نہ کہوں گا بلکہ اب تو اگر تمام اہل محلہ بھی درخواست کریں تب بھی نہ کہوں تم لڑومت اور یہ اعلان میرے مشورہ سے نہیں ہوا بلکہ خلاف مزاج ہوا ،یہ سنتے ہی وہ شخص ٹھنڈا ہوگیا اور اس کے ٹھنڈے ہونے سے سب خاموش ہوگئے ۔میں نے بواسطہ دوسرے شخص کے اس کے بعد یہ قول سنا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کی کیا بات ہے ان کی توجو تیاں ہم اپنے سرپر رکھ لیں یہ سارا فساد فلاں شخص کا ہے جس نے اپنی رائے سے اعلان کردیا اوریہ بھی مسموع ہوا کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ ہم کو وعظ ہونا ناگوارنہ تھا بلکہ یہ متغلبانہ تصرف ناگوارہوا، ہم کوخاص طور پر اطلاع کی جاتی ہم خود حاضر ہوکر وعظ کی درخواست کرتے پھرآنے والوں کے لیے خاص طورپر فرش کا ،برف کا،شربت کا انتظام کرتے اس طرح سے ہماری سخت اہانت تھی جو ہم کو گوارا نہیں ہوا ۔جب فضا میںسکون ہواہم لوگ مسجد سے واپس آرہے تھے کہ سب انسپکٹر صاحب مع گارڈ کے راستہ میں ملے ،کہنے لگے کہ چلئے وعظ کہئے میں نے کہا سبحان اللہ کیا موقع پر پہنچے ہیں یہاں تو خون ہوجاتاآپ کا آنا کس مصرف کاہوا اور اب وعظ نہیں ہوسکتا وعظ کیا ہوا کھیل ہوا ،یہ وہی بات ہوئی ع ''پس ازاں کہ من نمانم بچہ کارخواہی آمد''اور و ہ بات ہوئی ع''ہماری جان گئی آپ کی ادا ٹھہری ''۔ اس وقت مولانا یہ