ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
دارالعلوم دیوبند ـ حقائق ـ تاریخ اور مولاناشاہ احمد نورانی کی غلط فہمی ٭ ( مولانا محمد اسعد صاحب تھانوی ) مولانا شاہ احمد نورانی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ١٩٧٠ ء کی دہائی میں ایک اعتدال پسند بریلوی مسلک کے سیاستدان بن کر اُبھرے اور ملک میںشہر ت پائی ۔مولانا مفتی محمود کی قیادت میں نظام مصطفی کی تحریک میں شریک رہے۔مولانا شاہ احمد نورانی نے دیوبند ی مسلک کو پاکستان بننے سے قبل اور پاکستان بننے کے بعد بہت قریب سے دیکھا لیکن جنگ کے میگزین تاریخ٣مارچ٢٠٠٢ء میںانہوں نے دار العلوم دیوبند کے متعلق غلط زبان استعمال کرتے ہوئے یہ کہنے کی جرأت کہ دارالعلوم دیوبند کو انگریزوں نے قائم کیا اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے اور تاریخی ریکارڈ درست کرنے کے لیے اس بات کا منظر عام پر لایا جانا انتہائی ضروری ہے کہ دارالعلوم دیوبند کاقیام ہی انگریز کی مخالفت اور اس کو متحدہ ہندوستان سے نکالنے کی ایک کڑی ہے ۔دارالعلوم دیوبند کی بنیاد اہل اللہ نے رکھی اور معرکہ حق وباطل میں شکست دینے کا سہرا بھی دارالعلوم دیوبن کے فرزندوں کے سرپرسجا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ١٦٠٠ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا منحوس قدم ہندوستان پر رکھا اور عیسائیت کو فروغ دینے کے لیے اور لوگوں کو مرتد بنانے کے لیے کام شروع کیا اور چند علماء سوء کو خرید کر جہاد کے خلاف فتوٰی دلوانے کی کوشش کی۔ ١٨٥٧ء کے وقت ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے بڑے حصے پر قابو پا چکی تھی اور اس سلسلے میں عیسائی مشنری کو اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم دے کر ہندوستان بھیجا جانا تھا ۔ اسی پروگرام کے تحت سر ویلیم میور کو آگرہ و اودھ کا گورنر بنا کر بھیجا گیاجس نے اپنی ملازمت کے دوران لائف آف محمد، کتاب خلافت اور شہادتِ قرآنی جیسی دین دشمن کتابیںلکھیں۔دارالعلوم دیوبند سے اسی وقت احیائے اسلام کی عظیم تحریک اُٹھی جس نے صوبہ بنگال ،صوبہ مدراس جہاں پر عیسائیت کا پرچار کیا جا رہا تھا ان کو للکارا اور ان کے خلاف علما ئے دیوبند کے دستے نے ایسٹ انڈیا کمپنی اور عیسائیت کے خلاف تحریک چلا کر کروڑوں مسلمانوںکو نہ صرف عیسائی ہونے سے بچالیا بلکہ ان کے زور کوتوڑنے کے لیے انگریز سے ٹکرلی۔ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی کے ہم عصرمولانا رحمت اللہ کیرانوی