ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
کوئی امر ظاہرہو جیسے نا اتفاقی ،خواہ کوئی امرباطن ہو جیسے عجب ونظر الی الاسباب ونحو ہما جیسا غزوہ حنین میں مسلمان بارہ ہزار اور کفار چار ہزار (کما فی الجلالین ) مگر اول میں مسلمان مغلوب ہوگئے جس کا سبب عجب بالکثرت تھا (کما فی القران المجید اذا عجبتکم کثرتکم) پھرآخر میں وہی مغلوب غالب ہوگئے (کما قال تعالی ثم انزل اللّٰہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین و انزل جنودالم تروھا)اور یہ انزالِ سکینہ مشروط ہے زوال سبب مغلوبیت کے ساتھ کہ وہ عجب ہے اور یہ زوال تو بہ ہے اھ قولی بمعناہ مولانا مسرور ہوئے اور اس کو پسند فرمایا ۔ف اس سے مولانا کی تواضع او ر عدم استنکاف فی طلب الحق وسعی زیادت فی العلم ظاہر ہے جس میں امتشال ہے امر حق رب زدنی علماکا ۔ جام نمبر ١٤ : ایک سفر میں مولانا کی معیت میں ایک ہم وطن دوست کی طلب پر جودھپور جاناہو ا اور لوگوں کی درخواست پر احقر کے متعد د بیانات ہوئے۔جن سے بفضلہ تعالی بہت نفع ہو ا اور اہل بدعت کے خیالات میں بھی ایک درجہ میں نرمی و حسن ظن پیدا ہوگیا۔ ہر بیان کے ختم پر آئندہ بیان کے لیے لوگوں کی درخواست پروقت اور موقع کا اعلان کر دیا جاتا تھا ۔ایک شب میں ختم ِوعظ پر ان دوست صاحب نے ایسے موقع کے لیے اعلان کر دیا جہاں وعظ کی درخواست نہ تھی اور وہ محلہ تمام تر اہل فساد اور اہل عناد کا تھا۔ اپنے نزدیک انھوں نے یہ مصلحت سمجھی کہ صبح کو جمعہ تھا اور اس محلہ کی مسجد میں جمعہ بھی ہوتا تھا تو ان کو خیال یہ ہوا کہ اس طرح سے اہل محلہ کے کان میں حق پہنچ جائے گا مگر اس میں خرابی یہ ہو گئی کہ او ل تو اس محلہ کے اکثر لوگ سخت مبتدع و متعصب تھے ،پھر خصوصیت کے ساتھ ان کو ان دوست صاحب سے پہلے سے کچھ رنج بھی تھا جس کا سبب جس طرح اہل محلہ کی کج فہمی تھی کسی قدر ان دو ست صاحب کی تیز زبانی بھی تھی ۔ان لوگوں کو یہ اعلان نہایت ناگوار ہوا اور وہ یوں سمجھے کہ انھوں نے ہم کو زک دینے کے لیے یہ کارروائی کی ہے اورتہیہ کر لیا کہ وعظ نہ ہونے دیں گے۔ان دوست صاحب کو بھی قرائن سے اس کا خطرہ ضرور تھا انھوں نے یہ انتظام کیا کہ مجسٹریٹ صاحب کو جو کہ گلائو ٹھی کے رہنے والے اور خوش عقیدہ شخص تھے ایک درخواست دے دی کہ عین موقع پر پولیس کا انتظام کر دیا جائے تاکہ کوئی فتنہ و فساد نہ ہو ،چنانچہ درخواست منظور ہو کر ایک سب انسپکٹر مع چند جوانوں کے حاضر رہنے کے لیے مامور ہو گئے ۔ہم لوگوں کو اس کی اطلاع عین اس وقت ہوئی جب کہ جمعہ میں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے اپنی طبیعت اور مذاق کے موافق یہ را ئے قائم کی کہ ایسی تشویش کی جگہ جانا نہ چاہیے اور تہیہ وعظ کا دل سے نکال دیا او ر اس رائے کو مجمع میں ظاہر کر دیا ۔ان دوست صاحب نے تو یہ جواب دیاکہ سب لغو روایتیں ہیں اور یہ ر اوی جنھوں نے یہ حکایت کی تھی بزدل اور کم ہمت ہیں۔یہ ہر جگہ یونہی ڈرجاتے ہیں ضرور چلنا چاہیے اور مولانا نے فرمایا کہ اگر ایسا ہو بھی تب بھی تبلیغ حق میں ایسے امور کی پروا نہ کرنا چاہیے۔ ان دوست کی رائے کی تو مجھ کو کچھ وقعت نہیں ہوئی کیونکہ اس کا منشا میرے خیال میں دنیا تھی مگر مولانا