ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
ینفضوا منقول ہے اور ا س کے متصل ہی اس کا رد وللّٰہ خز ائن السمٰوات الخ منقول ہے جو حق تعالی کا قول ہے مگر ینفضوا پر وقف لاز م نہیںتو یہاں اس ایہام کا اعتبار نہیں کیا گیا ۔اسی طرح اسی کے بعد ان کا دوسرا قول منقول ہے لئن رجعنا الی المدینة لیخرجن الا عزمنھا الاذل اور اس کے متصل ہی اس کا رد وللّٰہ العزة الخ منقول ہے جو حق تعالی کا قول ہے مگر الاذل پر وقف لازم نہیں تو یہاں بھی اس ایہام کا اعتبار نہیں کیا گیا، پس ثابت ہوا کہ ایہام ثانی کا اعتبار اکثری ہے کلی نہیں، سو اسی بناء پر ولد ا پروقف لازم نہ ہونے کو بھی مبنی کرسکتے ہیں ،واللہ اعلم واقعہ نمبر ٣ : ایک شخص نے مولانا کے ُرو برو ایک حکایت بیان کی کہ ایک شخص مر گیا تھاتھوڑی دیر میں وہ تو زندہ ہو گیا اور اسی نام کا ایک دوسرا شخص اسی وقت مر گیا اور پہلے مرنے والے نے بیان کیا کہ مجھ کو ایک مقام پر لے گئے وہاں پیشی کے وقت کہا گیا کہ ا س شخص کو نہیں بلایا گیا بلکہ دوسرے شخص کو بلایا گیا ہے چنانچہ مجھ کو دنیا میں لوٹا دیا اور دوسرے کودنیا سے بلا یا گیا ۔یہ حکایت بیان کرکے پوچھا کہ کیا ایسا ممکن ہے؟بعض اوقات کسی دوسری طرف توجہ ہونے سے بعض پہلوئوں پر نظر نہیں جاتی کچھ نرم سا جواب فرمادیا ۔میں نے ادب سے عرض کیا کہ یہ تو ممکن نہیں معلوم ہوتا، اگر ملک الموت کو ایسی غلطی ہو سکتی ہے تو ملک الوحی سے بھی ہو سکے گی پس کسی غالی کے اس قول کی صحت گنجائش نکل آوے گی ''جبریل غلط کردہ مقصود علی بود''اور اس میں حکایت کی توجیہ صحیح اور سہل یہ ہے کہ وہ مریض مبرسم یامسکوت تھا اور اس میں اس کا متخیلہ فاسد ہو گیا تھا۔ مولانا یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور نہایت انبساط کی ساتھ اس کی تصویب فرمائی ۔ف ١ مولانا کا کمال حق پرستی جس قدر اس سے واضح ہے محتاج بیان نہیں ۔ف٢ اس کے قبل ایسا ہی واقعہ احقر کو حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب قدس سرہ کے حضور میں پیش آیا ۔مولانا کے جواب کے بعد یہی تقریر میں نے وہاں بھی کی تھی۔ مولانا قدس سرہ نے بھی اس کی تصویب فرمائی او ر اس کے قبل بھی ایسی ہی حکایت میں نے حضرت مولانا الشیخ محمد سے وعظ میں سنی تھی ،میں اس وقت بچہ تھا کیا عرض کرتا اور نہ مولانا کی تحقیق اس مجلس کی مجھ کو یاد رہی ۔ جام نمبر ١٣ تتمہ جام نمبر ١٢ : ایک بار مجھ سے ارشاد فرمایا کہ حدیث میں ہے لن یغلب اثنا عشر الفا عن قلة اور اس میں کوئی قید مذکور نہیں تو کیا یہ مطلق ہے اور ہر صورت کو شامل ہے گومقابلہ میںلاکھوں کا فر ہوں یایہ کہ کسی اور دلیل سے مقید ہے اطلاق پر یہ اشکال ہے کہ بہت جگہ اس عددسے زیاد ہ ہونے کی صورت میں بھی مسلمان مغلوب ہو گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ظاہر حدیث کا تو اطلاق ہی ہے اوربدون دلیل قوی کے تقیید کی کوئی وجہ نہیں اور مسلمانوں کا کہیں مغلوب ہونا کوئی دلیل نہیں کیونکہ جہاں مسلمان مغلوب ہوئے ہیں سبب اس کا کوئی علت ہے نہ کہ قلت اور وہ علت خواہ