ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
۔دوسرے دقیق تقوی کہ اشراف کے احتمال بعید تک نظر پہنچی اور اس پر عمل کا اہتما م ہوا ۔تیسرے اتباعِ سنت جیسا کہ ظاہر ہے ۔چوتھے اپنے معاملہ میں اپنے نفس کو متہم سمجھا کہ اپنی رائے پر وثوق نہیں فرمایا ورنہ جس کی نظر اتنی دقیق ہو کیا اس فیصلہ تک وہ نظر نہیں پہنچ سکتی تھی ۔ واقعہ نمبر ٢ : ایک بار خود افادةً فرمایا اور زیادہ یاد یہ پڑتا ہے کہ حضر ت مولانا گنگوہی سے نقل فرمایا تھا کہ قرآن مجید میں جو اوقاف لازمہ ہیں وہ ایسے ہی مواقع پر ہیں جہاں وصل کرنے سے ایہام خلافِ مقصود کا ہوتاہے چنانچہ ظاہر ہے مگر اس آیت میں کفار کا قول منقول ہے وقالوا اتخذ اللّٰہ ولدا سبحانہ اور ولداپروقف نہیں حالانکہ قاعدہ مذکورہ کا مقتضا یہاں پر لزوم وقف تھا کیونکہ وقف نہ ہونے سے ایہام ہوتاہے کہ سبحانہ بھی ان ہی قائلین کا قول ہے حالانکہ یہ ان کے قول اتخذ اللّٰہ ولدا کا رد اور ابطال ہے سو اس میں نکتہ یہ ہے کہ تنزیہ میں جہاں تک ہو تعجیل کی جائے تالی یا سامع کو ناخین تنزیہ کے قول کے بعد ذرا بھی انتظار نہ ہو کہ اس قول کے متعلق کیا فیصلہ فرمایا گیاہے ۔انتہی بمعناہ باوجودیکہ خود یہ نکتہ ارشاد فرمایا مگر ایسے ہی ایک مقام کے متعلق (جس کی تعیین مجھ کو یاد نہیں رہی ) احقر سے فرمایا کہ یہاں دفع ایہام کے لیے وقف ہونالازم تھا مگر أئمہ وقف نے یہاںوقف کا حکم نہیںفرمایا مجھ کو وہ نکتہ یاد آگیا میں نے عرض کیا کہ ایک بار آپ نے یہ نکتہ فرمایا تھا یہاں بھی وہی نکتہ تعجیل ابطال باطل ہو سکتاہے ۔ف ١ علاوہ تواضع کے ا س احتیاط بلیغ کوملاحظہ فرمایا جاوے کہ باوجودیکہ اس نکتہ پر نظر تھی مگر خصوصیت مقام کے سبب دوسرے سے مشورہ فرمایا کہ شاید یہاں کوئی دوسرا داعی ہو۔ علماء رسوم ایسی احتیاطیں کہاں کرتے ہیں ۔یہ اہل حقائق ہی کا حصہ ہے ۔ ف٢ اس نکتہ ٔمذکورہ کے علاوہ احقر کے ذہن میں ایسے مقامات کے متعلق ایک اور حقیقت آئی ہے بنظر علماء کی نظر ثانی کے عرض کرتاہوں کہ ا یہام کے مواقع تتبع سے دو قسم کے معلوم ہوئے ہیں ایک وہ کہ اہل حق کی طرف انتساب باطل کا ایہام ہو ،دوسرے وہ اہل باطل کی طرف انتساب ِحق کا ایہام ہو ۔سوا ول قسم کے مواقع میں تو وقف لازم ِکلی ہے اور دوسرے قسم کے مواقع میں وقف لازم اکثری ہے۔ علماء وقف نے ایسے مواقع پر اس کا زیادہ اہتمام و التزام نہیںکیا جس کا مبنی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اہل حق سے تو صدور باطل کا منکر شرعی ہے تواس ایہام کا دفع زیادہ مہتم بالشان ہے اوراہل باطل سے صدور حق کامنکر شرعی نہیں لان الکذوب قد یصدق بلکہ یہ صدور خود قرآن میں منقول ہے جہاں منافقین کاذکر ہے چنانچہ دوسرے قسم کے بعض مواقع کا ذکر کرتاہوں جس سے میرا دعوی اکثریت کا ثابت ہو تاہے ۔سورہ ٔ منافقون کی آیت میں منافقون کا قول نشھد انک لرسول اللّٰہ منقول ہے اور یہاں علما ء نے وقف لازم کیا ہے تاکہ ا س کے بعد کا قول واللّٰہ یعلم الخ کی نسبت ان کی طرف متوہم نہ ہو تو یہاں تو ایہام صفحہ نمبر 37 کی عبارت کا اعتبار کیا گیا اور اسی سورة میں رکوع اول کے ختم کے قریب منافقین کا قول لا تنفقوا علی من عند رسول اللّٰہ حتی