Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002

اكستان

48 - 65
۔دوسرے دقیق تقوی کہ اشراف کے احتمال بعید تک نظر پہنچی اور اس پر عمل کا اہتما م ہوا ۔تیسرے اتباعِ سنت جیسا کہ ظاہر ہے ۔چوتھے اپنے معاملہ میں اپنے نفس کو متہم سمجھا کہ اپنی رائے پر وثوق نہیں فرمایا ورنہ جس کی نظر اتنی دقیق ہو کیا اس فیصلہ تک وہ نظر نہیں پہنچ سکتی تھی ۔
	واقعہ نمبر ٢  :   ایک بار خود افادةً فرمایا اور زیادہ یاد یہ پڑتا ہے کہ حضر ت مولانا گنگوہی سے نقل فرمایا تھا کہ قرآن مجید میں جو اوقاف لازمہ ہیں وہ ایسے ہی مواقع پر ہیں جہاں وصل کرنے سے ایہام خلافِ مقصود کا ہوتاہے چنانچہ ظاہر ہے مگر اس آیت میں کفار کا قول منقول ہے  وقالوا اتخذ اللّٰہ ولدا سبحانہ اور ولداپروقف نہیں حالانکہ قاعدہ مذکورہ کا مقتضا یہاں پر لزوم وقف تھا کیونکہ وقف نہ ہونے سے ایہام ہوتاہے کہ سبحانہ بھی ان ہی قائلین کا قول ہے حالانکہ یہ ان کے قول اتخذ اللّٰہ ولدا کا رد اور ابطال ہے سو اس میں نکتہ یہ ہے کہ تنزیہ میں جہاں تک ہو تعجیل کی جائے تالی یا سامع کو ناخین تنزیہ کے قول کے بعد ذرا بھی انتظار نہ ہو کہ اس قول کے متعلق کیا فیصلہ فرمایا گیاہے ۔انتہی بمعناہ باوجودیکہ خود یہ نکتہ ارشاد فرمایا مگر ایسے ہی ایک مقام کے متعلق (جس کی تعیین مجھ کو یاد نہیں رہی ) احقر سے فرمایا کہ یہاں دفع ایہام کے لیے وقف ہونالازم تھا مگر أئمہ وقف نے یہاںوقف کا حکم نہیںفرمایا مجھ کو وہ نکتہ یاد آگیا میں نے عرض کیا کہ ایک بار آپ نے یہ نکتہ فرمایا تھا یہاں بھی وہی نکتہ تعجیل ابطال باطل ہو سکتاہے ۔ف ١   علاوہ تواضع کے ا س احتیاط بلیغ کوملاحظہ فرمایا جاوے کہ باوجودیکہ اس نکتہ پر نظر تھی مگر خصوصیت مقام کے سبب دوسرے سے مشورہ فرمایا کہ شاید یہاں کوئی دوسرا داعی ہو۔ علماء رسوم ایسی احتیاطیں کہاں کرتے ہیں ۔یہ اہل حقائق ہی کا حصہ ہے ۔ ف٢   اس نکتہ ٔمذکورہ کے علاوہ احقر کے ذہن میں ایسے مقامات کے متعلق ایک اور حقیقت آئی ہے بنظر علماء کی نظر ثانی کے عرض کرتاہوں کہ ا یہام کے مواقع تتبع سے دو قسم کے معلوم ہوئے ہیں ایک وہ کہ اہل حق کی طرف انتساب باطل کا ایہام ہو ،دوسرے وہ اہل باطل کی طرف انتساب ِحق کا ایہام ہو ۔سوا ول قسم کے مواقع میں تو وقف لازم ِکلی ہے اور دوسرے قسم کے مواقع میں وقف لازم اکثری ہے۔ علماء وقف نے ایسے مواقع پر اس کا زیادہ اہتمام و التزام نہیںکیا جس کا مبنی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اہل حق سے تو صدور باطل کا منکر شرعی ہے تواس ایہام کا دفع زیادہ مہتم بالشان ہے اوراہل باطل سے صدور حق کامنکر شرعی نہیں لان الکذوب قد یصدق بلکہ یہ صدور خود قرآن میں منقول ہے جہاں منافقین کاذکر ہے چنانچہ دوسرے قسم کے بعض مواقع کا ذکر کرتاہوں جس سے میرا دعوی اکثریت کا ثابت ہو تاہے ۔سورہ ٔ منافقون کی آیت میں منافقون کا قول نشھد انک لرسول اللّٰہ منقول ہے اور یہاں علما ء نے وقف لازم کیا ہے تاکہ ا س کے بعد کا قول واللّٰہ یعلم الخ کی نسبت ان کی طرف متوہم نہ ہو تو یہاں تو ایہام 

صفحہ نمبر 37 کی عبارت
کا اعتبار کیا گیا اور اسی سورة میں رکوع اول کے ختم کے قریب منافقین کا قول لا تنفقوا علی من عند رسول اللّٰہ حتی 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
51 حرف آغاز 4 1
52 درس حدیث 6 1
53 ہر انسان کے لیے استغفار کرنا ضروری ہے 6 52
54 اہم بات : 7 52
55 سبق آموز قصہ : 7 52
56 مبلغ کا کام : 7 52
57 جنت کا استحقاق کسی کو حاصل نہیں ہے : 8 52
58 مبلغ حضرات کے لیے تنبیہ : 9 52
59 انسان اپنے عمل کا وزن متعین نہیں کر سکتا : 9 52
60 صحیح مقام ـ نیکیاں بھی، استغفاربھی : 9 52
61 عبادت کے بعد استغفار اور اس کی حکمت : 9 52
62 مثال سے وضاحت : 10 52
63 فہم دین کورس اور حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ 11 1
64 فہمِ حدیث 16 1
65 نبوت و رسالت 16 64
66 جنت میں مومنین کو جو دیدار الہٰی نصیب ہو گا اس وقت حجاب اُٹھا دیا جائیگا : 16 64
67 معراج کے موقع پر نبی ۖ کو حاصل ہوا : 16 64
68 رسول اللہ ۖ نے حجاب نوری کو آنکھوں سے دیکھا : 19 64
69 فرقہ واریت کیا ہے ؟ اور کیوں ہے؟اورسدباب کیا ہے؟ 20 1
70 فرقہ واریت کے مراکز : 20 69
71 تا ریخی شہادت : 23 69
72 دارالعلوم دیوبند ـ حقائق ـ تاریخ 28 1
73 اور مولاناشاہ احمد نورانی کی غلط فہمی 28 72
74 انسانیت کے خلاف جرائم 32 1
75 واجپائی اور مودی پربرطا نیہ، بلجیم اور 32 74
76 عالمی خبریں 37 1
77 برطانوی مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جارہاہے 37 76
78 تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں 39 76
79 خوا نِ خلیل 40 1
80 تمہید طبع خوا نِ خلیل 40 79
81 خوانِ خلیل 42 79
82 دینی مسائل 55 1
83 ( تیمم کا بیان ) 55 82
84 تیمم کی سنتیں : 55 82
86 تیمم کا مسنون طریقہ : 55 82
87 متفرق مسائل : 56 82
88 تحریک احمدیت 58 1
89 شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار : 58 88
90 جوبلی تقریبات 59 88
91 جاسوس نبی : 60 88
92 تقریظ وتنقید 63 1
93 سمجھ میں نہ آنے والی منطق 65 1
Flag Counter