ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
میں پھر شبہات پیدا کیے جا سکتے ہیں تو پھر اس کے لیے تو ایک محکمہ کی ضرورت ہو گی یہ توجیہ ہے میرے جواب کی ۔ مگر میرے اس عذر کے قبول فرمالینے کے بعد جب بیان ہوا تو اتفاق سے حفظ لسان ومذمت بہتان کا چنانچہ اس وعظ کے ملا حظہ سے ظاہر ہو گا جس سے بلا اختیار مولانااور بدون قصد احقر کے ایک کرامت مولانا کی ظاہر ہوئی کہ جس چیز کو مولانا کاجی چاہتا تھا اللہ تعالی نے اس کو واقع فرمادیا اسی کو عارف رومی فرماتے ہیں تو چنیں خواہی خدا خواہد چنیں می دہد یزداں مراد متقیں جام نمبر ١١ : ایک تقریب غسل صحت ختنہ میں اتفاق سے یہاں سے احقر اورسہارنپورسے مولانا اور دیو بند سے حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمة اللہ علیہ تعالی ایک قصبہ میں مجتمع ہو گئے مگر بعض اعوارض کے سبب میں تو بلا شرکت واپس آگیا اور دیگر حضرات نے ان اعوارض کے طرف التفات نہیں فرمایا اور شرکت فرمالی اس کے بعد مولانا سے کسی نے اس کی وجہ پوچھی ،کیسا تواضع کا جواب ارشاد فرمایا کہ ہم نے فتوے پر عمل کیااور فلاں شخص (یعنی احقر ) نے تقوے پر عمل کیا ف اس جواب سے جس قدر تواضع اور اختلافی امر میں شق مقابل کے اختیار کرنے والے کے عمل کی حسن توجیہ مرعی ہے ظاہر ہے اور حضرت مولانا دیوبندی نے جوجواب عطا فرمایا وہ رسالہ ذکر ِمحمود نمبر ٢٤ میں مع تفصیل قصہ مذکور ہے۔ جام نمبر ١٢ : مولانا میں حضرات ِسلف کی سی تواضع تھی کہ مسائل و اشکالات علمیہ میں اپنے چھوٹوں سے بھی مشورہ فرماتے تھے او ر چھوٹوں کے معروضات کو شرح صدرکے بعد قبول فرمالیتے تھے چنانچہ بعض واقعات نمونہ کے طور پر معروض ہیں ۔ واقعہ نمبر ١ : ایک بار سفر بہاولپور میں اس احقر سے ارشاد فرمایاکہ حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ قبول ہدایا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پہلے سے اشراف نفس نہ ہو مگر سفر میں اکثرداعی کی عادت ہوتی ہے کہ مدعو کو کچھ ہدیہ دیتے ہیں۔ اس عادت کے سبب اکثر خطور بھی ایسے ہدایا کا ذہن میں ہو جاتا ہے سو کیا خطور بھی اشرافِ نفس و انتظار میں داخل ہے جس کے بعد ہدیہ لینا خلاف سنت ہے ۔ اس حقیر میں کیا قابلیت تھی کہ ایسے عظیم الشان عالم او ر عارف کے استفسار کا جواب دے سکوں لیکن چونکہ لہجہ استفسار امر بالجواب پر دال تھا اس لیے الامر فوق الادب کے بنا پر جواب عرض کرنا ضروری تھا چنانچہ میں نے عرض کیا کہ میرے خیال میں ا س میں تفصیل ہے وہ یہ کہ اس احتمال کے بعد دیکھا جاوے کہ اگر وہ احتمال واقع نہ ہو تو آیا نفس میں کچھ ناگواری پیداہوتی ہے یا نہیں اگر ناگواری ہو تو اس احتمال کا خطور اشرافِ نفس ہے ۔او ر اگر ناگواری نہ ہو تو اشراف ِنفس نہیں ہے خالی خطرہ ہے جو احکام میں موثر نہیں ۔اس جواب کو بہت پسند فرمایااوردعا دی ف اس واقعہ میں مولانا کے چند کمالات ثابت ہوتے ہیں ۔ایک تواضع جس کے سلسلہ میں یہ واقع ذکر کیا گیا ہے