ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
¾اكستان Ù |
|
مجاہدین کی جاسوسی کرتے رہے ۔بھارت کے موجودہ بی جے پی کے وزیر اعظم مسٹرو اجپائی کا ریکارڈبتاتا ہے کہ وہ بھی برطانوی دور میں مجاہدین آزادی کی مخبری کرتے رہے ہیں ۔١٩٢٤ ء میں یہ انسانیت دشمن گروہ آر ایس ایس کے نام سے منظم ہو گیا ۔آر ایس ایس کا بنیادی فلسفہ بھارت کی اقلیتوں کو جبر اً ہندو بنانا یا دہشت گردی پھیلاکر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے یا تیسرے درجے کاشہری بنا کر غلاموں کی طرح ہندوؤں کے رحم و کرم پررکھنا ہے ۔بی جے پی وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل وغیرہ میں ایس پی آر ایس ایس کی ذیلی شاخیں ہیں اور ان کا مشن یہ ہے کہ عام ہندوؤں میں مسلمانوں، کرسچین اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت بھڑکاکر ہر ہندو کو جانور اور وحشی درندہ بنا دیا جائے ۔ اس کام کے لیے انہوں نے گجرات کو ایک تجربہ گاہ بنا یا ہے، وہ یہی سب کچھ پورے بھارت میں کرنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ بھارت کی تین ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ان لوگوںنے ہمیشہ اس شخص کو قتل کیا جس نے انسانیت ،مساوات ا ورانسانی شرف کی بات کی ،مہاتما بدھ سے مہاتما گاندھی تک تاریخ شاہد ہے۔مولانا منصوری نے کہااگرچہ ماضی میں سائوتھ افریقہ اور روڈ یشیا جیسی بعض اقوام پر نسل پرستی کا الزام لگا ،مگرحقیقت یہ ہے کہ دنیا میں صرف دوہی قومیں ایسی ہیں جو اپنے مذہبی عقیدے کے طور پر نسل پرست ہیں۔ ا س کے معنی ہیںکہ نسل پرستی یعنی اپنی نسل کو دنیا کے سارے انسانوں اور اقوام سے اعلی وبرتر رویہ اور ساری اقوام کو ذلیل ملچھ (ناپاک ) اور قابل نفرت سمجھنا ان کے مذہب کااہم جزو ہے ،وہ ہیںیہود اور سنگھ پری وار کے ہندو۔ دنیا میں نسل پرستی کو بطور مذہبی عقیدے کے تعلیم دینے والی تاریخی دستاویز میں یہود کی تالمور اور برہمن کی منو شاسترہی ہے جسے بھارت میں ١٩٢٤ء سے آرایس ایس نے اپنی پوری توجہ تعلیم ،عسکری تربیت اور میڈیا پر مرکوز کی۔ اس وقت ان کے پاس دوکروڑ کے قریب نیم فوجی تربیت یافتہ سفاک قاتل تیار ہیں ۔بھارت کے انگریزی پریس کو چھوڑ کر ہندی اور علاقائی زبانوں کے پریس پر ان کا مکمل کنٹرول ہے ۔ بھارت کی فوج، پولیس، بیورو کریسی حتی کہ عدالتوں کے جج اور کالج یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز تک نے ساٹھ فیصد کے قریب آر ایس ایس کے انسانیت دشمن فلسفے کے حامل ہیں ۔صرف گجرات میں وشو ہند و پریشد کی ٢٨ ہزار برانچیں ہیں ۔گزشتہ دس سال میں بی جے پی حکومت نے اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے گجرات میں بیس ہزار سکول قائم کئے، جن میں ٥٥ہزار وشو ہندو پریشد کے ٹیچر معصوم بچوں کے ذہنوں میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کا زہر بھرنے کے لیے مقرر کئے گئے۔ بھارت کی موجودہ حکومت جو ٢٤ پارٹیوں پرمشتمل ہے اس میں اصل مرکزی پارٹی بی جے پی دہشت گرد آرایس ایس کا سیاسی بازوہے۔ اجلاس کے مہمان خصوصی ظفربھائی سوریش والا نے کہا گجرات و احمد آباد کے حالیہ واقعات ہندو مسلم فسادات نہیں،مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی منظم دہشت گردی ہے جس کی منصوبہ بندی گزشتہ دس سال سے گجرات کی بی جے پی حکومت کر رہی تھی ۔مسلمانوں کایہ قتل عام بی جے پی نے کیا ہے جس میں گجرات کے چیف منسٹر نریندر