ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
قیادت کی اور چار سدہ پشاور پہنچ گئے اور ١٨٢٧ء میں چارسدہ میں اسلامی حکومت کا اعلان کیا گیا ۔١٨٢٩ء میں پشاورفتح ہوا۔١٨٣١ء میں اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ۔شاہ اسماعیل شہید مئی ١٨٣١ء میں بالا کوٹ کے میدان میں شہید ہوگئے۔مولانا محمد قاسم پانی پتی ،مولانا سید نصیر الدین ،مولانا محمد جعفر ،مولانا عبدالرحیم ،مولاناولایت علی، مولانا عنایت علی،مولانا اکبر علی اور مولانامبارک علی وغیرہ نے انگریزکے خلاف کارروائی جای رکھی جس کی وجہ سے ان کو قید کی سزا دی گئی۔١٨٥٧ء میں اکابرین ِدیوبند نے انگریز کے خلاف جہاد فرض ہونے کا فتوٰی دیا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی قیادت میںمولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا قاسم نانوتوی اور حافظ ضامن صاحب نے انگریزی فوج کے خلاف تھانہ بھون میںجنگ لڑی اور اس پر قبضہ کرکے اسلامی حکومت کا اعلان کیا اور شاملی کے میدان میں لڑتے ہوئے حافظ ضامن صاحب شہید ہوئے ۔اس مقدس جہاد میں ایک ہزار مجاہدین شہید ہوئے۔ ڈاکٹر ولیم ولسن علماء دیوبند کے خلاف زہر اُگلتے ہوئے لکھتا ہے کہ١٨٥٠ سے لے کر ١٨٦٠ء تک ٦٠ ہزار سے زیادہ فوج اور ان کے ساتھیوں نے علماء دیوبند کا مقابلہ کیا لیکن وہ ان کو کسی طرح سے بھی زیر نہ کر سکے اور لکھتا ہے کہ جب ہم نے ملک چھوڑا تو جگہ جگہ برطانیہ کے سپاہیوں کی قبریں موجود تھیں ۔انگریزوں کے خلاف ان تمام مہمات میں جس میں ریشمی رومال کی تحریک ،خلافت کی تحریک اور بعد میں ختم نبوت کی تحریک شامل ہے ،کہیں بھی علماء بریلویت کا نہ کوئی نام ہے اورنہ کوئی کردار جبکہ مولانا نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند کے قیام سے قبل یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ خانہ کعبہ کی چھت پربیٹھے ہیں اور کوفہ کی طرف ان کا منہ ہے اور ایک نہر ان کے پائوں سے ٹکر ارہی ہے ۔مولانا محمد یعقوب نے اس کی تعبیر دی کہ آپ سے مذہب ِحنفی کو تقویت ملے گی ،خوب شہرت ہو گی لیکن جلد ہی وصال ہو جائے گا ۔اس کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا حسین احمدمدنی جوکہ خود دارالعلوم دیوبند کے فرزند تھے ان کا مقصد کانگریس میںرہتے ہوئے صرف اورصرف انگریز کو ہندوستان سے نکالنا تھا۔مولانا عطاء اللہ شاہ بخار ی کا ختم نبوت میں یہی کردار تھا کہ انگریز کے پیدا کردہ قادیانی مذاہب کو ختم کیا جائے۔ پاکستان بنانے کے لیے مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ نے شیخ السلام مولانا شبیر احمد عثمانی ،مولانا ظفر احمد تھانوی ،مولانا احتشام الحق تھانوی اور مولانا محمد احمد تھانوی کو مسلم لیگ کے ساتھ مل کر پاکستان بنانے کے لیے مقرر کیا تھا جبکہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے مغربی پاکستان میں قیامِ پاکستان کا جھنڈا لہرایا اورمولانا ظفر احمدتھانوی نے مشرقی پاکستان میں پاکستان کے قیام کا جھنڈا لہرایااس کے علاوہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے دستور ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے جن اسلامی قوانین کو آئین کا حصہ بنایا وہ جب تک پاکستان قائم رہے گا اس کاحصہ رہے گا۔ مولاناشبیر احمد عثمانی نے قائداعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ پڑھائی۔مولانا احتشام الحق تھانوی خطیب پاکستان کہلائے گئے ۔مولانا محمد احمد تھانوی اندرونِ سندھ اور بالائے سندھ کے ممتاز عالم دین اور خطیب قرار پائے ۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ شدہ لاکھوں علماء اوران کے