ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
شاگردوں نے دارالعلوم کے قیام سے اب تک ڈیڑھ سو سال میں پاکستان ،بھارت ،بنگلہ دیش ،سائوتھ افریقہ،انگلینڈ اور امریکہ سمیت تقریباًپوری دنیا کے مسلمانوں میں حضور نبی اکرم ۖ کے علوم اور ان کی سنتوں کی ترویج و اشاعت کا کام بطریق احسن انجام دیاہے ۔ قرآن پاک کی تفسیر ،حدیث نبوی ۖ کی تشریح اور علوم و افکارِ اسلامیہ پر مشتمل کتابیں تصنیف کی ہیں جو عالم اسلام سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں ۔ میرا تعلق براہ راست حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمةاللہ علیہ اور مولانااشرف علی تھانوی رحمةاللہ علیہ سے نصبی طور پرہے اس لیے میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں حقائق کے ساتھ مولانا شاہ احمد نورانی کی تحریر کا جواب دوں تاکہ قارئین کو اس غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کرنے کا اندازہ ہو جائے جو مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنی عمر کے آخری حصے میں کیا ہے ۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس تحریر سے کیا مفاد اور کیا مقاصد حاصل کرناچاہتے ہیں یا کسی کی خوشنودی کے لیے یہ کسی کے اشارے پر انہوں نے علماء دیوبند کے خلاف یہ شوشہ چھوڑا جبکہ ملک اس وقت نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسے معتدل سیاستدان اور عالم دین سے یہ نہیں کی اُمید جاسکتی تھی کہ جب پاکستان میں اتحاد ،اتفاق ،رواداری ،محبت، خلوص ،باہمی ہم آہنگی کی ضرورت ہو تو ایسے وقت میں وہ کون سے لوگوں کی خدمت کرکے کوئی مقام یاتمغہ حاصل کرناچاہے ہیں ۔یہ میں پاکستان کے عوام پر چھوڑ تا ہوں کہ ان حقائق کی روشنی میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔