ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
نے سب سے پہلے ١٨٥٤ ء میں آگر ہ میںمجمع عام کے سامنے مناظرہ کرکے پادری ٹنڈرکو شکست فاش دے کر اسلام کی حقانیت ثابت کی جس کاتفصیلی ذکر١٨٥٥ء میں احیائے اسلام کی عظیم تحریک سے پتہ چلتا ہے۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ازا لةالاوھام ،ازا لةالشکوک ، اعجاز عیسوی ، تقلیب المطاعن اور اظہار الحق اور ایسی بہت سی کتابیں تحریر کیں جس پر اس وقت ٹائمنر آف لندن نے یہ تبصرہ کیا کہ اگر ان کتابوںکو لوگ پڑھتے رہے تو عیسائی مذہب کی ترقی ناممکن ہو جائے گی۔اسی لیے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کو انگریز حکومت نے غدارکا الزام لگا کر پھانسی کاحکم دیا لیکن وہ کسی طرح مکة المکرمہ پہنچنے میںکامیاب ہوگئے اور ١٣٠٨ھ میں وہیں انتقال ہوا ۔اس کے بعد مولانا قاسم نانوتوی ،مولانا عبدالمجید ، مولانا ابوالمنصوردہلوی اور مو لانا محمد علی مراد آبادی عیسائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں آئے اور ١٨٧٦ء اور ١٨٧٧ء میں عیسائی پادریوں سے مناظرہ کیا جو تاریخ میں'' میلہ خداشناسی شاھجہان پور'' کے نام سے مشہور ہے ۔انہی کی وجہ سے مسلمانان ہند کو انگریز کی غلامی اور عیسائیوں کی شر انگیزی سے نجات ملی ۔ مولانا نانوتوی کی کتاب حجةالاسلام نہایت اہمیت کی حامل ہے۔اسلام کی شمع گل کرنے کے لیے انگریزوں نے علمائے حق کے مقابلے میںدرباری ملاؤں کو خریدنا شروع کیا ۔انہی حالات کی وجہ سے ١٥٨٢ء میں اکبر نے سجدہ ٔ تعظیمی کوضروری قرار دیا اور انگریزکو ہند میں رہنے کی اجازت دی ۔انگریز کی سازش کے تحت میر جعفر نے ١٧٥٧ء میں پلاسی کے مقام پرسلطان کو شہید کیا اور سلطان ٹیپو کے سپہ سالار میر صادق نے ١٧٩٩ء میںمیسور کے مقام پرسلطان کو ابدی نیند سلا دیا۔ اسی انگریز کی ر یشہ دوانیوںکی و جہ سے اسلام کے خلاف غلام احمدقادیانی کو کھڑا کیا گیا ۔بعض علماء نے ١٩١٦ء میں ترکوں کے خلاف فتوٰی دیا اور اکابرین دیوبند کی تکفیر کی گئی۔مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے ایک کتاب لکھ کر دجل و فریب کو ظاہر کیا ۔١٨٥٧ء میں کیپٹن ہڈسن ا ور جنرل ولسن کی وجہ سے پورے ہندوستان پر ا نگریز کا قبضہ ہوا۔ بہادر شاہ ظفرکو گرفتار کرکے ان کے شہزادوں کو قتل کیا گیا ۔مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ،مولاناقاسم نانوتوی اور مولانارشید احمد گنگوہی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔مفسر قرآن شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا عزیر گل اور شیخ الحدیث مولانا حسین احمد مدنی فرزندان د یوبند اسیرمالٹا ہوئے۔اسی طرح تبلیغی جماعت کا قیام حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کے ہاتھوں معرض وجود میں آیا ۔جس کو شیخ ا لحدیث حضرت مولانازکریا صاحب نے آگے بڑھایا اور مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔ تاریخ کے مطابق ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں تیرہ ہزار ممتاز اور جید علماء اور ٥٢ ہزار عام علماء کو قتل کیا گیا ،چھ لاکھ افراد کا خون بہایا گیا جس میں مجموعی طورپر ٢٧ لاکھ جانیں ضائع ہوئیں ۔جس کا ذکر ایڈورڈٹامسن صفحہ نمبر ٤٨٠ حکومت خود اختیاری صفحہ٤٢ اور مسلمان مجاہدین صفحہ نمبر ٢٤٠ پرموجود ہے ۔مجدد الف ثانی نے اکبر کے سامنے کلمہ حق بلند کیا ۔شاہ عبدالعزیز نے ١٨٠٣ء میں انگریز کے خلاف فتوٰی جاری کیا ۔شاہ اسماعیل شہید نے جنوری ١٨٢٦ء کو جہادی تحریک کی