ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کوئی مشکل نہیں ۔اگر یہ معاملہ وزارت مذہبی اُمور کے اختیار میں دے دیا جائے اور عدالتوں کو باقاعدہ مذہبی کیسوں کے سماعت و فیصلہ کا اختیا ر دے دیا جائے اور عدالت میں جو شخص بھی کتاب سنت کی متواتر و متوارث تحقیق و تشریح سے منحرف ثابت ہو جائے وہ فرقہ واریت کا مجرم ہے اس کو عدالت کی طرف سے قرار واقعی سزا مل جائے تو فرقہ واریت کے سونتے خود ہی خشک ہو جائیں گے اور فرقہ و اریت کے غلیظ گڑھے ختم ہوجائیں گے ۔ تاریخ اسلام کے ترقی یافتہ اور روشن دور میں اسلامی حکومتوں میں یہی دستور تھا چنانچہ امیرالمؤمنین خلفیة الرسول سید نا حضرت ابوبکر صدیق نے مسلمہ کذاب جس نے نبوت محمدی کے مقابلہ میں اپنی جھوٹی نبوت کو دعوٰی کر رکھا تھا اور اپنی اچھی خاصی قوت تیار کر لی تھی کے ساتھ جہاد کرکے سترقراء صحابہ کرام کی قیمتی جانیں قربان کرکے اس شجر ہ خبیثہ کی جڑ کاٹ دی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس فتنہ کو دفن کر دیا۔ امیرالمؤ منین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کے دور میں خارجیوں کا فتنہ و فرقہ وجود میں آیا ۔جنہوں نے اپنی جدید تحقیق اور جدید نظریات کی وجہ ایک نیا مذہب ایجاد کیا ۔ان کا عقیدہ تھا کہ دینی معاملات میں کسی کو حکم بنانا کفر ہے اور جو آدمی اس عقیدہ سے اتفاق نہ کرے وہ کافر ہے اس کا خون بہا دینا مباح ہے ۔یہ بھی ان کا عقیدہ تھا کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب کافرہے۔ یہ فرقہ بارہ ہزار کی تعداد میں تھا جب انہوں نے یہ مذہب ایجاد کرکے اس کو رواج دینا چاہا تو اولاًسید نا علی نے حضرت عبداللہ بن عباس کو بھیج کر ان کو سمجھایا ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا مگر یہ راہِ راست پر نہ آئے تو ثاینًا سید نا علی نے ان پرفو ج کشی کی اور فوجی طاقت کے ذریعہ اس فتنہ کو کچل دیا گیا ۔اس کے بعد اسلامی حکومتوں کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ ملکی سرحد ات کی طرح حدود اللہ یعنی حدود دین کی بھی حفاظت کریں اور اسلامی حکومتوں کے دور میں جب بھی کسی نے حدودین کو پامال کیا اور کوئی نیا مذہب ایجاد کرکے اس کو رواج دینا چاہا اور کتاب و سنت کی متواتر وتحقیق و تشریح کے مقابلہ میں اپنی جدید تحقیق کا سکہ چلانا چاہاتو اسلامی حکومت پہلے مرحلہ میں علمائے اسلام کے ذریعے دلائل سے ان کو قائل و مطمئن کرنے کی کوشش کرتی اگر وہ مطمئن ہو کر توبہ کر لیتے تو ان کو معاف کر دیا جاتااور اگر وہ اپنے ایجاد کردہ مذہب کے رواج دینے پر مصر ہوتے تو عدالت یا فو ج کے ذریعہ ان کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا ۔ اس سلسلہ میں اگر ہم پاکستان کی تاریخ پرایک نگاہ ڈالیں تو مزید شرح صدر ہو جائیگا انگریز کے دور میں ایک انگریزی نبی مرزاغلام احمدقادیانی نے نبوت کا دعوٰ ی کیا ،حکومت کی پشت پناہی اور حکومتی وسائل کے بل بوتے پر انگریز کا یہ خود کاشتہ پودہ پروان چڑھتا رہا حتی کہ یہ خوب جڑ پکڑ گیا پھر پاکستان معرض وجود میں آیا تو قادیانی فرقہ اپنے مادی وسائل اور پاکستان کی بے دین یا بد دین حکومتوں کی بے حسی و بے غیرتی کی وجہ سے حکومت کے حساس اداروں اور کلید آسامیوں پر قابض ہوگیا اور قادیانی لوگ حکومت کے مختلف محکموں میں گھس گئے نتیجة ًیہ فرقہ مضبوط سے مضبوط تر ہو تا گیا ۔ دوسری طرف مادی وسائل سے محروم اور حکومت کے معتوب ''علماء حق'' قادیانیت کے روپ میں پھیلنے والی فرقہ واریت کے خلاف دلائل