ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کی جنگ لڑتے رہے اور قادیانی فرقہ کی اسلام و پاکستان دشمنی کو طشت ازبام کرتے رہے اور حکومت کے دروازہ پہ دستک دے کر حکومت کو آگاہ کرتے رہے اور مسلمانوں کو ملت اسلامیہ کے متواتر ومسلمہ عقیدہ ختم نبوت و نزول عیسٰی علیہ السلام دلائل کے ساتھ سمجھاتے رہے ۔سمجھاکر اس فرقہ واریت سے بچانے اور سلف کے متواتر و متفقہ عقیدہ پر جمع رکھ کر مسلمانوں میں اتحاد کی فضا ء بر قراررکھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بے دین،بے حس ،بے شعور او ر مفاد پرست حکومتوں نے غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بن کر علماء حق کی طرف سے کی جانے والی اتحاد اور دعوت اتحاد کی عملی کوششوں کو فرقہ واریت کا عنوان دے کر علما ء کو بدنام کیا اور اس فرقہ واریت کے خلاف کام کرنے کے جرم میںہزاروں علما ء اور مسلمانوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ جیلوں میں بندکرکے ان کو اذیتیں پہنچائی گئیں اور ان پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے اور ہزاروں کو شہید کر دیا گیا یوں علما ء کو فرقہ پرست اور فرقہ واریت کے مجرم قرار دے کر اصل فرقہ واریت کے جو ہڑ پر پردہ ڈال دیا گیا لیکن علماء حق نے ہمت نہ ہاری وہ اُمت مسلمہ کے متواتر و متفقہ عقیدہ ختم نبوت اور نزول عیسٰی علیہ السلام کی طر ف دعوت دے کر متحدرکھنے کی کوشش بھی کرتے رہے اور قادیانیت کو قومی وحدت اور قومی سلامتی کے خلاف سازش بھی قرار دیتے رہے ۔بالآخر شیخ الاسلام ،فقیہ ملت ،مفتی اعظم ،مفکر اسلام مولانا مفتی محمود اور وقت کے ابو ذر ،شہنشاہ سیاست سیف بے نیام شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی کی کوششوں اور حجةالاسلام ،سید السادات ،محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان و امیر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی قیادت میں پوری پاکستانی قوم کی تحریک کے نتیجہ میں قادیانیت کاپرانا مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔ قادیانیوں کے پیشوا مرزا ناصر کو بھی قومی اسمبلی میں طلب کیا گیا ۔کئی روز تک بحث ہوتی رہی۔المختصر اینکہ قومی اسمبلی میںقادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ۔ا س فیصلہ کے بعد پوری دنیا میں قادیانی فرقہ کی کمر ٹوٹ گئی اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی ہو گیا کہ جن علما ء حق کو قادیانیت کے خلا ف کا م کرنے کی وجہ سے خاک و خون میں تڑپایا گیا یہ سراسر ظلم تھا اور یہ ظلم کرنے والے قیامت کے روز اللہ کے سامنے جواب دہ ہوںگے اور پتہ چل گیا کہ قادیانیت فرقہ واریت تھی اور جو علماء و عوام قادیانیت کے خلاف کام کر رہے تھے وہ در حقیقت فرقہ واریت کے خلاف کام تھا ۔ان کے مشن وکاز کی بنیاد اور اس کا نتیجہ فرقہ واریت کا خاتمہ تھا نہ کہ فرقہ واریت پھیلانا ۔اور قادیانیت کے خلاف ان کی تبلیغی ودعوتی مہم اتحاد اور دعوت کا مشن تھا ۔ اس کے برعکس قادیانی فرقہ اور اس کے پشت پناہ فرقہ واریت کے پیکر اور فرقہ واریت کے مجرم،بہر کیف جب قومی اسمبلی نے یہ تاریخی فیصلہ کیا تو اس کا فرقہ واریت کاعروج زوال میں اور ترقی ،پستی میں تبدیل ہوگئی اور کافی حد تک اس پرکنٹرول ہو گیا اور اگر اس فیصلہ پر پورا عمل درآمد ہوتا تو موجودہ حالت سے بھی صورت حال مختلف ہوتی جبکہ ہر حکومت غیر ملکی دبائو کی وجہ سے اس فیصلہ کا لعدم قرار دینے کی کوشش کرتی رہی لیکن اس کے باوجو دفرقہ واریت ختم کرنے کے حوالہ سے نتیجہ حوصلہ افزا رہا ہے اسی طرح مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی