تحفہ ماہ رمضان |
ہم نوٹ : |
|
کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں دسترخوان بچھوائیں گے اور روزہ دار لوگ میدانِ محشر کی گرمی اور حساب کی پریشانی سے محفوظ عرش کے سائے میں پلاؤ بریانی کھارہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی شاندار مہمانی ہوگی اور قیامت کے دن جس کو عرش کا سایہ مل جائے گا اُس کا حساب نہیں ہوگا کیوں کہ جہاں حساب ہوگا وہاں سایہ نہ ہوگا اور جہاں سایہ ہوگا وہاں حساب نہ ہوگا کیوں کہ سایۂ رحمت میں بلانا اور ضیافت کرنا یہ مہمان کا اعزاز ہے اور دنیا میں بھی کوئی میزبان اپنے معزز مہمان سے یہ سلوک نہیں کرتا کہ دعوت کے بعد اُس سے حساب کتاب لے یا اُس کو تکلیف دے تو اللہ پاک تو ارحم الراحمین ہیں، اُن کی رحمت سے بعید ہے کہ عرش کا سایہ دے کر پھر حساب کتاب کی پریشانی اور دوزخ کے عذاب میں مبتلا کریں۔ اس لیے ان شاء اللہ تعالیٰ روزہ داروں کی اور سایۂ عرش پانے والوں کی جنت پکی ہے۔ فدیہ کا مسئلہ لہٰذا روزہ دار روزہ رکھ کر تکلیف اُٹھالیں اور جو بہت کمزور ہو، بیمار ہو اور دیندار ڈاکٹر نے کہہ دیا ہو کہ آپ کے لیے روزہ مضر ہے تو وہ رمضان گزر جانے کے بعد دو سیر گندم کی قیمت روزانہ اکٹھی دے دے لیکن پیشگی دینے سے روزے کا فدیہ ادا نہیں ہوگا۔ کفارۂ قسم کا مسئلہ ایسے ہی قسم کا کفارہ ہے۔ کسی نے قسم توڑ دی تو دس مسکین کو کھانا کھلائے یا دس مسکین کو دو سیر گندم فی کس قیمت ادا کرے۔ مگر دس مسکین کو الگ الگ دے۔ اگر ایک مسکین کو دے گا تو ایک ہی دن کا کفارہ ادا ہوگا۔ اگر مسئلہ نہیں جانتا اور ایک مسکین کو بلایا اور کہا کہ بھئی! میں نے قسم توڑ دی ہے، تم یہ دو سیر گندم کے حساب سے دس دن کی قیمت مثلاً ڈھائی سو روپے لے لو تو ایک ہی دن کا کفارہ ادا ہوا۔ اس لیے چاہے اُسی مسکین کو دو مگر دس دن تک دو سیر گندم کی قیمت یومیہ دیتے رہو اور اگر آپ کو جلدی ہےایک ہی دن میں کفارہ دینے کا شوق ہے تو دس مسکین کو تلاش کرلو اور اگر مسکین نہ ملتے ہوں تو کسی متقی عالم کے مدرسے میں دو جو شریعت کے مطابق کفارہ ادا کرے گا، اور چوراہوں پر جو مسکین نظر آتے ہیں یہ