زندگی کے قیمتی لمحات |
ہم نوٹ : |
|
بادشاہانِ جہاں از بدرگی بو نہ برد نداز شرابِ بندگی مولانا فرماتے ہیں کہ دنیا کے بادشاہوں کے دلوں میں دنیا کی محبت کی گٹر لائن گھسی ہوئی ہے، حبِّ دنیا کی، شہواتِ نفسانیہ کی محبت ہے، اس لیے ان کی جان اﷲ تعالیٰ کی خوشبو سے محروم ہے، لیکن پہلے جو بادشاہوں کا حال تھا آج وہی غریبوں کا حال ہے، جن کو دنیا کی محبت و جاہ نے مارا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشبو سے محروم ہیں۔ اگر بادشاہوں کو اﷲ تعالیٰ کی محبت کی خوشبو مل جاتی تو یہ کیا کرتے ؎ورنہ ادہم وار سرگرداں و دنگ ملک را بر ہم زدندے بے درنگ سلطان ابراہیم ابنِ ادہم رحمۃ اﷲ علیہ کی طرح سلطنتیں ان کی نظروں میں تلخ ہو جاتیں اور چٹائی پر بیٹھ کر یہ شعر پڑھتے ؎تمنا ہے کہ اب کوئی جگہ ایسی کہیں ہوتی اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دلنشیں ہوتی خداکی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہوکر تو اپنا بوریا بھی پھر ہمیں تختِ سلیماں تھا اگر آپ تھوڑی دیر چٹائی بچھا کر اپنے گھروں میں اﷲ تعالیٰ کا نام لیتے، غذائے روحانی حاصل کرتے تو آج آپ کی زبانوں میں کچھ اور ہی اثر ہوتا۔ مولانا رومی فرماتے ہیں ؎ہر کہ باشد قُوتِ او نورِ جلال چو نباشد از لبش سحرِ حلال جس کی غذا اﷲ تعالیٰ کے ذکر کا نور بن جائے اُس کے ہونٹوں سے اﷲ تعالیٰ کلامِ مؤثر کیوں نہیں پیدا کرے گا؟ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ہماری باتوں میں، ہمارے وعظوں میں وہ اثر نہیں تھا، لیکن جب ہم نے حضرت حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ ا ﷲ علیہ کی صحبت اٹھائی، اللہ اللہ کیا، ذکر و فکر کیا تو ایسا اثر پیدا ہوا کہ ؎