زندگی کے قیمتی لمحات |
ہم نوٹ : |
|
کے اندھیرے بھاگنے لگتے ہیں، اُجالے گھیرلیتے ہیں۔ اللہ نور ہے، وہ سورج کو روشنی کی بھیک دیتاہے، خود سوچئے کہ اُس کا نام لینے والے پر کتنے اجالے برستے ہوں گے؟ ان کا نام لینے سے اندھیروں سے مناسبت ختم ہو جاتی ہے۔ آج جتنے لوگ نفس وشیطان کی غلامی سے نہیں نکل پارہے، یہ وہ ظالم ہیں جنہوں نے ذکر اللہ کا اہتمام نہیں کیا۔ ہم اپنا کتنا ہی دل اور کلیجہ نکال کر سامنے رکھ دیں جب تک خدا کا فضل و کرم نہ ہو اور بندے کو طلب و فکر نہ ہو بیڑا پارنہیں ہوگا۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جس طرح باپ چاہتا ہے کہ بچہ چلے اور جب بچہ گِرنے لگتا ہے تو بابا خود اُٹھا لیتا ہے۔ بس سلوک کا حاصل یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہم تھوڑا سا تو چلیں، کچھ تو کوشش کریں، جب گِرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ خود بڑھ کر ہم کو اٹھالیں گے، لیکن افسوس ہے کہ ہم اپنی جگہ سے کھسکتے ہی نہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎اے کہ صبرت نیست از فرزند و زن صبر چوں داری ز ربِّ ذوالمنن جن کو اپنے بیوی بچوں پر صبر نہیں آتا، ابّا کا نام لے کر، امّاں کا نام لے کر، بیوی بچوں کا نام لے کر مست ہوجاتے ہیں، انہیں اﷲ تعالیٰ پر کیسے صبر آجاتاہے کہ ان کا نام لیے بغیر سوجاتے ہیں؟ بیوی سے باتیں کروگے، بچوں سے باتیں کروگے، ان کو بہلاؤ گے، کھلاؤ گے، پلاؤگے، نوٹ کی گڈّیاں گنو گے کہ آج اتنی آمدنی ہوئی، پان کھانے میں مزہ آرہا ہے، کتھا چونا چاٹنے میں اور تمباکو ڈال کر زبان کی چرچراہٹ میں مزہ آرہا ہے، دنیا کی نعمتوں میں غرق ہو، لیکن کاش! اگر تمہیں پان کے خالق اور دوپیازہ گوشت کے خالق کے نام کی ہوا بھی لگ جاتی، تو نہ جانے تمہاری کیا حالت ہوتی۔ مولانا رومی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎لیک ذوقِ سجدۂ پیشِ خدا خوشتر آید از دو صد دولت ترا اگر خدائے تعالیٰ ایک سجدہ کی لذت عطا کردیں تو دو سو سلطنت سے زیادہ مزہ تمہیں اس ایک سجدہ میں آجائے، لیکن ؎