ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2016 |
¾اكستان Ù |
|
ساتھ صلح کروتوہم تمہارے ساتھ صلح پسندی کا معاملہ کریں گے بلکہ وہ کافروں کی جماعت کے ساتھ بھی رحم و کرم اور حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ پھرقرآنِ کریم میں دین سے روکنے والے اور دین کے راستے میں روڑا اَٹکانے والے کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کا جو حکم دیاگیاتو مطلقًا نہیں بلکہ اُس میں بھی حدود و قیودطے کردیے گئے اور حدِ اِعتدال سے تجاوزکو ممنوع قراردیا گیا : ( وَقَاتِلُوْا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ) (سُورة البقرة : ١٩٠) یہ اور اِن کے علاوہ دیگر قرآنی آیتوں اور خدائی اَحکام کی روشنی میں نبی پاک ۖ نے اپنے اَصحاب اور مجاہدین کو جنگ کے رہنما اُصول بتائے جن پر وہ ہمیشہ کاربند رہے،کمزوری و مغلوبیت کے زمانے میں بھی اور فتح اور غلبہ کے بعد بھی اُنہوں نے کسی بھی موقع پر مفتوحین کے ساتھ روایتی فاتحین جیسا حیوانی سلوک نہیں کیا،اُنہوں نے کسی بھی جنگ میں عورتوں اور بچوں پر ہاتھ نہیں اُٹھایااُنہوں نے کسی بھی شہر یا ملک کو فتح کرنے کے بعد شہریوں کے اَموال و جائیداد اور عورتوں کو اپنی ملکیت نہیں بنایا اوراُن کی عصمت و عفت پر دَست درازی نہیں کی بلکہ اِسلامی ضابطے کے مطابق اپنے سپہ سالار کی ہدایت پر عمل کیا،یہی وجہ ہے کہ اُن کے ایسے کردار سے متاثر ہونے والوں اور پھر دامنِ اِسلام سے وابستہ ہونے والوں میں مسلسل اِضافہ ہوا اور اِسلام اپنی آمدکے بعدبہت ہی کم دنوں میں دُنیا بھر کے بیشتر خطوں میں پھیل گیا۔ (٤) اِسلام کی بنیادی تعلیمات (نصوص ِ قرآن ،اَحادیثِ کریمہ )اِس تصور کو سرے سے مسترد کرتی ہیں کہ اِس کی اِشاعت میں کسی بھی قسم کی زور زبردستی کا دخل رہاہے،قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر اِس چیز کو بیان کیاگیا ہے،اِرشادِ باری ہے : ( لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی ق لَا انْفِصَامَ لَہَا ط وَاللّٰہُ سَمِیْع عَلِیْم ) ( سُورة البقرہ : ٢٥٦ )