ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2016 |
¾اكستان Ù |
|
'' دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں،ہدایت اور گمراہی دونوں واضح ہیں،پس جو شخص باطل معبودوں کا اِنکار کرکے ایک خدا پر اِیمان لے آیااُس نے مضبوط چیز کو تھام لیاجوجدا ہونے والی نہیں ہے اور اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔'' اِس آیتِ کریمہ کے سبب ِنزول کوجان لینا بھی دلچسپی سے خالی نہیں،مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اَنصار کے بنی سالم بن عوف کے ایک شخص کے پاس دو بیٹے تھے جو بعثت ِنبوی سے قبل ہی نصرانی مذہب اِختیار کر چکے تھے،ایک زمانے کے بعدوہ دونوں نصرانیوں کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ تجارت کی غرض سے آئے،اُن کے والد(جو مسلمان ہوچکے تھے)نے جب اِنہیں دیکھاتو اِن کے پیچھے پڑ گئے اور کہنے لگے کہ جب تک تم دونوں مسلمان نہیں ہوجاتے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں،یہاں تک کہ یہ معاملہ نبی پاک ۖ تک پہنچ گیا، اَنصاری صحابی نے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول ۖ میرے جسم کے ٹکڑے جہنم میں داخل ہوں اور میں دیکھتا رہوں ؟ ( ایسا نہیں ہوسکتا)۔اِسی موقع پر مندرجہ بالا آیتِ کریمہ نازل ہوئی جس میں یہ واضح کردیا گیا کہ اِیمان اور کفر اِنسان کا ذاتی معاملہ ہے،کوئی کسی کو ایک مذہب چھوڑ کر دُوسرا مذہب اِختیار کرنے پر مجبور نہیں کرسکتاچنانچہ اُنہوں نے اپنے بیٹوں کا راستہ چھوڑ دیا۔ اِمام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے قولِ باری تعالیٰ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ )کے بارے میں زید بن اسلم سے دریافت کیاتو اُنہوں نے فرمایا کہ حضور ۖ نے مکہ کی زندگی میں کسی کو مذہب اِسلام اِختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا،اِس کے باوجود کفار آپ کی جان کے درپے ہوگئے تو ایسے موقع پر اللہ نے آپ کو اُن سے لڑنے کی اِجازت مرحمت فرمادی اور (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) کا مطلب یہ ہے کہ اِسلام اپنے ماننے والوں کو اِس کی اِجازت نہیں دیتا کہ وہ اِس میں داخل ہونے کے لیے کسی کو مجبور کریں۔ دُوسری جگہ اِرشاد باری ہے : ( اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) (سُورہ یونس : ٩٩ ) ''کیا آپ لوگوں کو اِیمان لانے کے لیے مجبور کریں گے؟(یعنی آپ ایسا نہیں کرسکتے)۔''