ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2016 |
¾اكستان Ù |
|
آمد سے پہلے ہی مکہ جاکر اپنی مرضی اور دِلی خوشی کے ساتھ اِسلام قبول کرچکے تھے،مکہ کے تیرہ سال اور مدینہ کے تقریبًا ڈیڑھ سالوں کے درمیان مسلمانوں کی جو حالت تھی وہ سیرت و تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے اور اُسے جاننے اور پڑھنے کے بعد کوئی ناعقل ، متعصب اور بعض و حسد کے خطرناک مرض کا شکار شخص ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ جتنے بھی لوگوں نے اِسلام قبول کیا وہ خارجی دباو،ڈر،خوف یا لالچ کی وجہ سے کیا۔ (٣) ہجرتِ مدینہ کے دُوسرے سال کے اَواخر یا نصف میں مسلمانوں کو جہاد اور کافروں کے خلاف مقاتلے کی اِجازت مل گئی لیکن یہ جہاد اِس لیے نہیں مشروع کیاگیا کہ اِس کے ذریعے سے کافروں اور مشرکوں کو زبردستی دائرہ اِسلام میں داخل کیا جائے بلکہ اللہ نے اِسے اِس لیے مشروع کیا کہ اِس کے ذریعے سے دین اِسلام کا دفاع کیاجائے،اُس کو در پیش مشکلات اور عوائق و موانع کا مقابلہ کیا جائے اور اُس کی اِشاعت کی راہ میں حائل ہونے والوں کودُور کیا جائے، مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے،رُوئے زمین پر ایک خداکی پرستش اور عبادت کے تصور کو عام کیا جائے،ظلم و زیادتی، نااِنصافی، بد اَمنی کا خاتمہ کیاجائے،پھراللہ تبارک و تعالیٰ نے قتال اور جہاد کا حکم دیتے وقت بھی مسلمانوں کو یہ تلقین کی کہ وہ ایسے لوگوں پر دورانِ جنگ ہاتھ نہ اُٹھائیں جنہوں نے مذہب کے نام پر اُنہیں پریشان نہیں کیا اوراُن کی ایذا رسانیوں میں دُوسروں کے ساتھ شریک نہ رہے،مسلمانوں کو حکم دیاگیا کہ دورانِ جنگ ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ کھینچے رکھیں،اُن کے ساتھ اِنصاف اور حسنِ سلوک کا معاملہ کریں، اِرشاد باری تعالیٰ ہے : ( لَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْا ِالَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o ِانَّمَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوْا عَلٰی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ )(سُورة الممتحنہ : ٨،٩ ) اِس آیتِ کریمہ سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِسلام کا موقف یہ نہیں کہ اگر تم ہمارے