ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2015 |
اكستان |
|
پڑوسیوں سے حسنِ سلوک کی بہت تاکید آئی ہے جو با رہا بیان کر چکا ہوں۔ ایک صحابی نے ایک روز رسولِ اکرم ۖ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ۖ مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں اچھے کام کر رہا ہوں یا برے ؟ تو آقائے نامدار ۖ نے فرمایا کہ پڑوس سے اَندازہ لگا لیا کریں یعنی اگر وہ اچھا کہیں تو اچھے ہو ورنہ برے ہو۔ مذکورہ بالا حدیث شریف میں آقائے نامدار ۖ نے محبت کا ایک معیار بتلایاہے جس سے ہر آدمی کو جانچا جا سکتا ہے، اگر ایک آدمی برابر جھوٹ بولے ،اَمانت میں خیانت کرے، پڑوسیوں کو تنگ کرے مگر اِس کے باوجود وہ اللہ اور اُس کے رسول ۖ کی محبت کادعویدار ہے توایسا شخص یقینا کاذب ہے محب ہر گز نہیں، حقیقی اور سچا محب وہی ہوتا ہے جو محبوب کی ہر بات کو تسلیم کرے اُس کا ہر حکم خوشی سے بجا لائے، وہ محب نہیں جو بات توکوئی بھی نہ مانے مگرزبان سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرے، فقط زبانی دعوے کا کوئی اِعتبار نہیں۔ خلاصہ یہ نکلا کہ اللہ اور اُس کے رسول کے محب اورمحبوب وہی ہوتے ہیں جو اُن کے حکموں پر چلتے ہیں، نافرمانی نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلائے، آمین۔ اِختتامی دُعا................. قارئین اَنوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل ماہنامہ اَنوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ اِرسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے اُن کے واجبات موصول نہیں ہوئے اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ اَنوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی اِدارہ سے وابستہ ہے اِس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اَور اِس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اِس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اِس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اَپنا چندہ بھی اِرسال فرمادیں اَوردیگر اَحباب کوبھی اِس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اِس سے اِدارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے۔(اِدارہ)