ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2015 |
اكستان |
|
مؤرخہ ١٩ ستمبر کے روزنامہ نوائے وقت میں مع تصویر ایک خبر نظر سے گزری ،خبر کی سر خی ہے : ''تھائی نیوی کیڈٹس'' کو ''کلاس'' میں ''موبائل فون'' لانے پر اَنو کھی'' سزا'' پوری خبر اِس طرح ہے : ''بنکاک (نیٹ نیوز) تھائی لینڈ میں نیوی کیڈٹس کو سمارٹ فون کلاس رُوم میں لانے پر اَنوکھی سزادی گئی ہے، کیڈ ٹس کو اپنے ہاتھوں سے سمارٹ فون توڑنا پڑے کسی کیڈٹ نے اِینٹ پکڑی تو کسی نے پتھر اُٹھایا اور اِنتہائی دِل گرفتگی کے ساتھ اپنے فون کا کباڑا کر ڈالا۔ '' باوجودیکہ کفار جو اِن اِیجادات کے موجد بھی ہیں اپنی دُنیوی اور مادّی ترقی کی راہ میں اِس کے غیر مفید اِستعمال کو برداشت کرنے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہیں تو ہمیں کیا ہوا کہ ہم اِس کے قبیح اِستعمال سے اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے سر گرم نہ ہوں جبکہ دینی مدارس میں دی جانے والی تعلیم مادّی فوائد کے ساتھ رُوحانی فوائد پر بھی مشتمل ہونے کہ وجہ سے اہم بھی ہے اور مقدس بھی، بایں ہمہ ضروری ہے کہ ہم تمام ذمہ دارانِ مدارس اب تک کی کوتاہی پر اللہ سے اِستغفار کرتے ہوئے طالب علموں کے لیے موبائل فون اپنے پاس رکھنا قابلِ تادیب جرم قرار دیتے ہوئے جتنا جلد ممکن ہو اِقدامات کریں اپنے اَساتذہ کو بھی اِس بات کا اِحساس دلایا جائے کہ وہ اپنے شاگردوں کے مربی اور بڑے ہیں جویہ کریں گے اُس کی چھاپ طلباء پر آئے گی لہٰذا اپنے مرتبہ اور ذمہ داری کا اِحساس نیز درسگاہ اور اَسباق کے تقدس کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے اپنے شاگردوں کے سامنے عملی نمونہ بن کر پیش ہوں اور دورانِ سبق ہر گز اپنے موبائل فون کا اِستعمال نہ کریں۔ قومی جرائد میں کچھ روز پہلے مغرب کے عالمی ماہرین کی ایک رائے میری نظر سے گزری جس میں اُنہوں نے تسلیم کیا کہ کمپیو ٹرکے تعلیمی میدان میں اِستعمال کے اچھے نتائج مرتب نہیں ہوسکے۔