]٢٢٣٢[(٣)ولا یثبت نسب ولدھا الا ان یعترف بہ المولی]٢٢٣٣[ (٤)فان جائت بولد بعد ذلک ثبت نسبہ منہ بغیر اقرار فان نفاہ انتفی بقولہ۔
وجہ چونکہ آقا کی حیات تک باندی ہے اس لئے آقا باندی کے سارے معاملات کر سکتا ہے (٢) اوپر حدیث گزری۔عن ابن عمر ان النبی ۖ نھی عن بیع امھات الاولاد وقال لایبعن ولا یوھبن ولا یورثن یستمتع بھا سیدھا مادام حیا فاذا مات فھی حرة (دار قطنی،کتاب المکاتب ج رابع ص ٧٥ نمبر ٤٢٠٣)جس سے معلوم ہوا کہ آقا زندگی بھر ام ولد سے خدمت لے سکتا ہے اور وطی بھی کر سکتا ہے۔
]٢٢٣٢[(٣) اور نہیں ثابت ہوگا بچے کا نسب مگر یہ کہ آقا اس کا اعتراف کرے۔
تشریح باندی سے بچہ ہوا تو پہلی مرتبہ آقا اعتراف کرے کہ یہ میرا بچہ ہے تب اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہوگا۔اور اگر اعتراف نہ کرے تو نسب ثابت نہیں ہوگا۔البتہ ایک مرتبہ اعتراف کر لیا کہ یہ بچہ میرا ہے پھر دوسری مرتبہ بچہ پیدا ہوا تو اس بچے کا نسب خود بخود آقا سے ثابت ہو جائے گا۔ اس کے لئے دو بارہ اعتراف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وجہ ولادت کے لئے باندی کا رشتہ آقا سے اتنا مضبوط نہیں ہے جتنا نکاح کی وجہ سے بیوی کا شوہر سے ہوتا ہے۔اس لئے آقا کے اعتراف کی ضرورت پڑے گی(٢) باندی رکھنے سے لازم نہیں آتا کہ وہ وطی بھی کرتا ہوگا اور بچہ پیدا کرنا چاہتا ہوگا۔کیونکہ اس بچے میں غلامیت کا اثر ہے اس لئے اعتراف کی ضروت پڑے گی(٢) اثر میں ہے۔عن ابن عباس قال کان ابن عباس یاتی جاریة لہ فحملت فقال لیس منی انی اتیتھا اتیانا لا ارید بہ الولد (الف) (طحاوی شریف، باب الامة یطأھا مولدھا ثم یموت وقد کانت جاء ت بولد فی حیاتہ ھل یکون ابنہ وتکون بہ ام ولد ام لا ج ثانی ص ٦٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ اعتراف کرے گا تو بچے کا نسب ثابت ہوگا اور انکار کرے گا تو نفی ہو جائے گی (٣) بخاری میں عتبہ بن ابی وقاص کی لمبی حدیث ہے جس میں آقا نے بیٹا ہونے کا دعوی کیا اس لئے دعوی کرنے کے بعد آپ نے بچے کا نسب آقا سے ثابت کر دیا۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ فقال رسول اللہ ۖ ھو لک یا عبد بن زمعہ من اجل انہ ولد علی فراش ابیہ (ب) (بخاری شریف ، باب ام الولد ص ٣٤٤ نمبر ٢٥٣٣)
]٢٢٣٣[(٤)پس اگر اس کے بعد بچہ دیا اس کا نسب آقا سے ثابت ہوگا بغیر اقرار کے۔پس اگر اس کی نفی کردے تو نفی ہو جائے گی اس کے قول سے تشریح پہلی مرتبہ آقا کے اعتراف کی ضرورت پڑے گی تب نسب ثابت ہوگا۔لیکن بعد میں جو بچہ پیدا ہوگا اس کے نسب کا اقرار کئے بغیر آقا سے نسب ثابت ہو جائے گا۔
وجہ ایک مرتبہ نسب ثابت ہوگیا اور ام ولد بن گئی تو اب آقا سے ولادت کا رشتہ مضبوط ہوگیا اس لئے دو بارہ اقرار کی ضروت نہیں ہے۔ البتہ اس وقت بھی آقا انکار کرے گا تو بچے کا انکار ہوگیا۔کان ابن عباس یأتی جاریة لہ فحملت فقال لیس منی انی اتیتھا اتیانا لا
حاشیہ : (الف) حضرت ابن عباس اپنی باندی سے وطی کرتے تھے۔پس حاملہ ہوئی ۔پس حضرت نے فرمایا یہ مجھ سے نہیں ہے۔ میں اس سے جماع کرتا تھا اور بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا (ب) آپۖ نے فرمایا اے زمعہ! یہ بچی تیرے لئے ہے اس بنا پر کہ باپ کی فراش پر پیدا ہوئی ہے۔