Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

99 - 465
٢   و مالک یخالفنا فی غیر الاب ٣   والشافعی فی غیر الاب والجد وفی الثیب الصغیرة ایضاً  

ترجمہ : ٢  اور امام مالک  ہماری مخالفت کر تے ہیں باپ کے علاوہ میں ۔ 
تشریح :   امام مالک  فر ماتے ہیں کہ باپ کے علاوہ کو نکاح کروانے کا اختیار نہیں ہے ، صرف باپ کو اس کا اختیار ہے کہ وہ نابالغہ لڑکی کی شادی کرائے ۔ 
وجہ :   (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ آزاد آدمی پر دوسرے کی ولایت کا حق ضرورت کی بنا پر ہو تی ہے   اورنابالغ لڑکی کو شہوت نہیں ہے اس لئے اس کو شوہر کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لئے اس پر کسی کی ولایت نہیں ہو نی چا ہئے ، لیکن حضرت ابو بکر  کی حدیث کی وجہ سے باپ کی ولایت ثابت کی گئی ہے اس لئے دوسروں کو نابالغہ پر ولایت نہیں ہو گی ۔ لیکن موطاء امام مالک کی عبارت سے معلوم ہو تا ہے کہ باپ کے علاوہ دوسروں کو بھی ولایت ہے ، البتہ ولایت اجبار صرف باپ کو ہے ، ۔ مؤطاء میں عبارت یہ ہے ۔ قال عمر بن الخطاب لا تنکح المرأة الا باذن ولیھا او ذوی الرأی من اھلھا او السلطان ۔ ( مؤطاء امام مالک  باب استیذان  البکر و الایم فی انفسھما ، ص ٤٩٨) اس عبارت میں ہے کہ اہل رائے بھی نکاح کرا سکتا ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ دوسرے لوگوں کو بھی ولایت نکاح ہے ۔ ۔ ولایت اجبار : کا مطلب یہ ہے کہ بالغ ہو نے کے بعد نکاح توڑنے کا اختیار نہ ہو اس کو ولایت اجبار کہتے ہیں ۔ نابالغ لڑکی کاباپ شادی کرا دے تو امام ابو حنیفہ کے مسلک کی طرح بالغ ہو نے کے بعد بھی نکاح توڑنے کا اختیار نہیں رہتا ۔    
ترجمہ :  ٣  امام شافعی  ہماری مخالفت کرتے ہیں باپ اور دادا کے علاوہ میں ، اور نا بالغ ثیبہ میں بھی ۔ 
تشریح :   امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ باپ اور دادا کو نا بالغ لڑکی پر ولایت ہے اس کے علاوہ کو ولایت نہیں ہے ، اور یہ بھی فر ما تے ہیں کہ نا بالغ ثیبہ پر ولایت نہیں ہے ، ہمارے نزدیک نا بالغ ثیبہ پر ولی کی ولایت ہے ، کیونکہ وہ نابالغ ہے ۔ مو سوعہ کی عبارت سے معلوم ہو تا ہے کہ باپ اور دادا کے علاوہ کو بھی نکاح کی ولایت ہے ،  البتہ امام ابو حنیفہ  کے مسلک کی طرح ولایت اجبار صرف باپ اور دادا کو ہے ، مو سوعہ کی عبارت یہ ہے ۔ و اذا لم یکن اخوة لاب و ام و لا أب و کان بنو أخ لاب و ام و بنو أخ لاب ، فبنو الاخ لاب و الام أولی من بنی الاخ للاب ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب اجتماع الولاة و افتراقہم ، ج عاشر ، ص ٤٣، نمبر ١٥٣٤١)  المسألة:  الولی اما مجبر أو غیر مجبر فالمجبر أحد ثلاثہ : الاب و الجد و ان علا و السید، و للاب تزویج البکر صغیرة أو کبیرة بغیر اذنھا و یستحب استأذانھا و لیس لہ تزویج ثیب الا باذنھا فان کانت الثیب صغیرة لم تزوج حتی تبلغ و الجد کالاب عند عدمہ....و الولی غیر المجبر ھو الاب و الجد و باقی العصبات ، و ترتیب الاولیاء علی النحو التالی : الاب ،ثم الأخ ثم العمومة ثم المعتق ، ثم السلطان    ( موسوعة امام شافعی ، باب اجتماع الولاة و افتراقہم ، ج عاشر ، ص ٤٣، نمبر ١٥٣٤١ مسألة ٩١٠)   اس عبارت سے 

Flag Counter