من لا ولی لہ ۔ (ابو داؤد شریف ، باب الولی ص ٢٩١ نمبر ٢٠٨٣ ترمذی شریف ، باب ماجاء لا نکاح الا بولی ص ٢٠٨ نمبر ١١٠٢ نسائی شریف ،نمبر ٥٣٩٤) اس حدیث میں موالیھا سے پتہ چلا کہ کئی ولی ہیں اور یہ بھی پتہ چلا کہ ولی میں ترتیب ہے اسی لئے آپ نے فر ما یا کہ ولی نہ ہو تو سلطان اس کا ولی ہے ۔(٢)بیٹے کے ولی ہونے کے سلسلے میں ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔جس میں حضرت ام سلیم نے اپنے بیٹے حضرت انس کو ابو طلحہ سے نکاح کرانے کے لئے کہا۔عن انس ان ابا طلحة خطب ام سلیم ... قالت یا انس زوج ابا طلحة قال الشیخ وانس بن مالک ابنھا وعصبتھا (سنن للبیہقی ، باب الابن یزوجھا اذا کان عصبة لھا بغیرابنوة ج سابع، ص٢١٣،نمبر١٣٧٥٥) اس اثر میں حضرت انس بیٹے کو نکاح کا ولی بنایا گیا ہے۔(٣)اور کوئی نہ ہو تو ماں کے ولی بننے کے لئے یہ اثر ہے ۔قال عمر بن الخطاب اذا کان العصبة احدھم اقرب بام فھو احق(رواہ الامام محمد فی کتاب الحجج ص ٢٩٣اعلاء السنن، باب ان النکاح الی العصباتو ان المرأة تستحق ولایة الانکاح ، ج حادی عشر ص ٨٥،نمبر ٣١٤٢)اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عصبہ نہ ہو تو ماں نکاح کرانے کا حقدار ہے۔
( عصبات کی تعداد ایک نظر میں )
عصبہ بنفسہ حصے عصبہ بنفسہ حصے
(١) بیٹا (١٠) پھر ماں باپ شریک چچا
(٢) پھر پوتا (١١) پھر باپ شریک چچا
(٣) پھر پر پوتا (١٢) پھر ماں باپ شریک چچا کا بیٹا
(٤) پھر باپ (١٣) پھر باپ شریک چچا کا بیٹا
(٥) پھر دادا (١٤) پھر باپ کا ماں باپ شریک چچا
(٦) پھر ماں باپ شریک بھائی (١٥) پھر باپ کا باپ شریک چچا
(٧) پھر باپ شریک بھائی (١٦) پھر باپ کے ماں باپ شریک چچا کا بیٹا
(٨) پھر ماں باپ شریک بھتیجا (١٧) پھر باپ کے باپ شریک چچا کا بیٹا
(٩) پھر باپ شریک بھتیجا (١٨) پھر دادا کا چچا
نوٹ: اس نقشے میں عصبات کی ترتیب بیان کی گئی ہے۔نکاح میں باپ اور دادا کو بیٹے اور پوتے سے پہلے نکاح کرانے کا حق ملتا ہے ۔