٤ وجہ قول مالک ان الولاےة علی الحرة باعتبار الحاجة ولا حاجة لانعدام الشہوة الا ان ولاےة الاب ثبتت نصاً بخلاف القیاس والجد لیس فی معناہ فلایلحق بہ ٥ قلنا لابل ہو موافق للقیاس لان النکاح یتضمن المصالح ولاتتوفر الابین المتکافیین عادة ولایتفق الکفوفی کل زمان فاثبتنا الولاےة فی حالة الصغر احرازاً للکفو ٦ وجہ قول الشافعی ان النظر لا یتم بالتفویض الی غیر الاب والجد
معلوم ہوا کہ نکاح کی ولایت دوسروں کو بھی ہے ، البتہ ولایت اجبار امام ابو حنیفہ کی طرح صرف باپ اور دادا کو ہے ، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ثیبہ چاہے نا بالغ ہو پھر بھی ولی کی ولایت اس پر نہیںہے ۔ اس کی دلیل آگے آرہی ہے ۔
ترجمہ : ٤ امام مالک کے قول کی وجہ یہ ہے کہ آزاد آدمی پر ولایت ضرورت کی وجہ سے ہے اور شہوت نہ ہو نے کی وجہ سے کوئی ضرورت نہیںہے ، مگر باپ کی ولایت خلاف قیاس حدیث سے ثابت ہے ، اور دادا باپ کے معنی میں نہیں ہے اس لئے دادا کو باپ کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائے گا۔
تشریح : یہ امام مالک کی دلیل عقلی ہے کہ آزاد پر ولایت کا حق ضرورت کی بنا پر ہے اور نا بالغ کو شہوت نہ ہو نے کی وجہ سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کسی کی ولایت کی ضرورت بھی نہیں ہے ، باقی رہا باپ کی ولایت اس لئے ثابت رکھتے ہیں کہ وہ خلاف قیاس نص یعنی حدیث سے ثابت ہے ، اور دادا باپ کے درجے میں نہیں ہے اس لئے دادا کو باپ کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائے گا ۔
ترجمہ : ٥ ہم کہتے ہیں کہ دوسروں کو ولایت قیاس کے موافق ہے ، اس لئے کہ نکاح بہت سے مصلحتوں کو شامل ہے ، اور پورے مصلحت حاصل نہیں ہو سکتے مگر عادة دو برابر والوں کے درمیان ، اور ہر زمانہ میں کفو بھی نہیں ملتا اس لئے کفو حاصل کر نے کے لئے بچپنے میں ولایت ثابت کر دی ۔
تشریح : یہ امام مالک کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھاکہ ضرورت کی بنا پر ولایت ثابت ہو تی ہے ، اورنا بالغ لڑکی کو شہوت نہ ہو نے کی بنا پر نکاح کی ضرورت نہیں ہے ، تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ بچپنے میں بھی ضرورت ہے ، کیونکہ نکاح میں بہت سی مصلحتیں شامل ہیں اور جب میاں بیوی ایک درجے کے ملتے ہیں تب وہ مصلحتیں پوری ہو تی ہیں ، اور برابرکا کفو ہر زمانے میں نہیں ملتا ، اس لئے بچپنے میں بھی اور لوگوں کو ولایت ہو گی تاکہ اگر بچپنے میں کفو مل جائے تو اس وقت بھی نکاح کروا دے اور کفو محفوظ کر لے۔
لغت: تتوفر : وفر سے مشتق ہے ، پورا ہو نا ، بہت زیادہ ہو نا ۔متکافیین : کفو سے مشتق ہے ، دو برابر کے لوگ، دو خاندان نسب میں، پیشے میں ایک جیسے ہوں اس کو ایک دوسرے کا کفو کہتے ہیں ۔ احراز : محفوظ کر نا ، جمع کر نا ۔
ترجمہ : ٦ امام شافعی کے قول کی وجہ یہ ہے کہ باپ اور دادا کے علاوہ کو سونپنے سے مصلحت پوری نہیں ہو تی ، شفقت کم ہو نے اور رشتہ داری کی دوری کی وجہ سے ، اور اسی لئے مال میں تصرف کر نے کا مالک نہیں ہو تا با وجود کہ یہ ادنی رتبہ ہے اس لئے نفس میں