(فصل فی الوکالة بالنکاح وغیرہا)
(فصل فی الوکالة فی النکاح و غیرھا)
ضروری نوٹ : وکیل : مثلا زید نے خالد کو نکاح کرانے کا وکیل بنایا تو اس کو وکیل کہا جائے گا ۔ اور خالد خود اپنا نکاح کرے تو یہ اپنی جانب سے اصیل ہو گا ، نکاح کرانے میں چھ صورتیں ہوتی ہیں ]١[ دو نوں جانب سے اصیل ہو ، مثلا لڑکا خود ایجاب کرے ، تو یہ اپنی جانب سے اصیل ہوا ، اور لڑکی خود قبول کرے تو یہ بھی اپنی جانب سے اصیل ہوئی ۔ اس حدیث میں حضرت عبد الرحمن خود اپنا اصیل ہے ۔ ان عبد الرحمن بن عوف تزوج امرأة علی وزن نواة فرأی النبی ۖ بشاشة العرس فسألہ فقال انی تزوجت امرأة علی وزن نواة ۔ ( بخاری شریف ، باب قول اللہ تعالی و ء اتو النساء صدقاتھن نحلة (آیت ٤، سورة النساء ٤) ص ٩٢١، نمبر ٥١٤٨) اس حدیث میں ہے کہ میں نے خود نکاح کیا تو نکاح کا خود اصیل ہوا ۔
]٢[دو نوں جانب سے وکیل ہوں مثلا لڑکا کا وکیل خالد ہو ، اور لڑکی کا وکیل زید ہو ، اور دونوں ایجاب اور قبول کرے ۔ اس حدیث میں لڑکی کی جانب سے اس کا لڑکا نکاح کا وکیل ہے۔ عن ام سلمة قالت قال رسول اللہ ۖ ......فلما انقضت عدتھا بعث الیھا رسول اللہ ۖ عمر بن الخطاب یخطبھا علیہ فقالت لابنھا : یا عمر قم فزوج رسول اللہ ۖ فزوجہ ۔ ( سنن بیہقی ، باب الابن یزوجھا اذا کان عصبة لھا بغیر البنوة، ج سابع، ص ٢١٢، نمبر ١٣٧٥٢) اس حدیث میں اس حدیث میں بیٹا ماں کے نکاح کرانے کا وکیل ہے ۔ (٢)و قال عمر خطب النبی ۖ الی حفصة فأنکحتہ ۔ ( بخاری شریف ، باب تزویج الاب ابنتہ من الامام ، ص٩١٨، نمبر ٥١٣٤) اس حدیث میں باپ بیٹی کا وکیل ہوا ہے، اور حضور ۖ اپنی جانب سے اصیل ہیں۔
]٣[ لڑکا اور لڑکی دو نوں جانب سے ایک ہی وکیل ہو ، مثلا لڑکی نے بھی زید کو نکاح کا وکیل بنا یا اور لڑکے نے بھی زید کو ہی نکاح کا وکیل بنا یا، اس صورت میں زید دو نوں کی جانب سے ایجاب اور قبول کرے گا ، نکاح میں ایسا ہو سکتا ہے ،، کہ دو نوں جانب سے ایک ہی وکیل ہو ۔بیع میں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اس حدیث میں حضور دو نوں جانب سے وکیل تھے ۔سمعت سھل ابن سعد الساعدی یقول انی لفی القوم عند رسول اللہ ۖ اذقامت امرأة فقالت یا رسول اللہ ۖ انھا قد وھبت نفسھا لک....فقام رجل فقال : یا رسول اللہ ۖ أنکحنیھا ....قال اذھب فقد أنکحتکھا بما معک من القرآن ۔ ( بخاری شریف ، باب التزویج علی القرآن و بغیر صداق ، ص ٩٢١، نمبر ٥١٤٩) اس حدیث میں حضور ۖ لڑکی اور لڑکا دو نوں جانب سے وکیل تھے ، اس لئے دو نوں جانب سے حضور ۖ نے انکحتکھا، فر ما یا اور دو نوں کا نکاح ایک ہی جملے میں کرا دیا ، ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لڑکا یا لڑکی کی جانب سے وکیل ہو سکتا ہے ۔