الصغیرة اوثیبا) ١ والولیّ ہو العصبة
ثیبہ۔
تشریح: چھوٹے بچے کی شادی ولی کرائے اس سے اس کا نکاح ہو جائے گا ۔اسی طرح نابالغہ بچی چاہے باکرہ ہو یا ثیبہ ہو ولی اس کا نکاح کرائے تو نکاح ہو جائے گا ۔
وجہ: (١) اوپر گزر چکا ہے کہ ولی کو نکاح کرانے کا حق ہے۔لا نکاح الا بولی حدیث گزر چکی ہے۔اس لئے وہ نکاح کرائے تو نکاح ہو جائے گا (٢) وہ تو بالغ عورت کی بات تھی لیکن نا بالغ لڑکے یا نابالغ لڑکی کی شادی کرائے تو چونکہ ان کو عقل نہیں ہے اس لئے بدرجۂ اولی ولی کے نکاح کرانے سے نکاح ہوگا (٣) بعض مرتبہ کفو اور اچھا خاندان مل جاتا ہے جو بعد میں نہیں مل سکے گا۔اب اگر اس وقت ولی نکاح نہ کرائے اور بچے یا بچی کے بالغ ہونے کا انتظار کرے تو بچے یا بچی کو نقصان ہوگا ۔اس لئے بھی ولی کا نکاح جائز قرار دیا جائے(٤) حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر نے اپنی نا بالغہ لڑکی عائشہ کی شادی حضورۖ سے کروائی اورہو بھی گئی۔عن عائشة ان النبی ۖ تزوجھا وھی بنت ست سنین وادخلت علیہ وھی بنت تسع ومکثت عندہ تسعا (بخاری شریف، باب النکاح الرجل ولدہ الصغار ص ٧٧١ نمبر ٥١٣٣ مسلم شریف ، باب جواز تزویج الاب البکر الصغیرة ص ٤٥٦ نمبر ٣٤٨١١٤٢٢) اس حدیث میں چھ سال کی نابالغ لڑکی کی شادی باپ نے کروائی اور نکاح ہو گیا۔
اصول : نا بالغ لڑکا یا لڑکی ہو تو چا ہے باکرہ ہو یا ثیبہ ہو باپ یا کوئی ولی اس کا نکاح کرا سکتا ہے ، وہ نکاح ہو جائے گا ۔ اور بالغ لڑکی کا نکاح ولی بغیر مشورے کے نہیںکرا سکتا ، چا ہے لڑکی باکرہ یا ثیبہ ہو۔
ترجمہ : ١ ولی وہ عصبات کی ترتیب پر ہے ۔
تشریح : نا بالغہ کے نکاح کرا نے کا جو اولیاء ہیں ان میں سے جو پہلے ولی ہے اس کو پہلے حق ملے گا ، وہ مو جود نہ ہو تو اس کے بعد والے کو حق ملے گا ، اور وہ بھی مو جود نہ ہو تو اس کے بعد والے کو ملے گا اسی ترتیب سے نکاح کا حق ملے گا ، پس اگر پہلے ولی کے رہتے ہوئے بعد والے ولی نے نکاح کرا دیا اور پہلا ولی اس سے راضی نہیں ہوا تو اس کا نکاح کرانا صحیح نہیںہو گا ۔ چنانچہ جس ترتیب سے وراثت میں عصبات کو حق وراثت ملتا ہے اسی ترتیب سے نکاح کرانے میں بھی نکاح کرانے کا حق ہے۔اس کی ترتیب اس طرح ہوگی۔پہلے باپ کو نکاح کرانے کا حق ہے۔وہ نہ ہو تو دادا کو،وہ نہ ہوتو بیٹے کو،وہ نہ ہو تو بھائی کو،وہ نہ ہوتو چچا کواور وہ نہ ہو تو چچازاد بھائی کو اور وہ بھی نہ ہوتو ماں کو نکاح کرانے کا حق ہوتا ہے۔
وجہ : (١) ولی کے سلسلے میں یہ حدیث ہے۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ أیما امرة نکحت بغیر اذن موالیھا فنکاحھا باطل ، ثلاث مرات فان دخل بھا فالمھر لھا بما اصاب منھا فان تشاجروا فالسلطان ولی